بخلیفۃٍ منا ھو اٰخر الخلفاء علٰی قدم عیسٰی ۔
آخری خلیفہ از ہمیں امت خواہد بود کہ برقدم عیسٰی خواہد آمد
آخری خلیفہ اسی امت میں سے ہوگا اور وہ عیسٰی کے قدم پر آئے گا
وماکان لمؤمنٍ ان یکفر بہٖ فانہٗ کفرٌ بکتاب
و مجال ہیچ مومن نیست کہ انکار ایں کند چراکہ ایں انکار کتاب اللہ است
اور کسی مومن کی مجال نہیں کہ اس کا انکار کرے کیونکہ یہ قرآن کا انکار ہے
اللّٰہط ولا یفلح الکافر حیث اتٰی ۔ وفَکّر فی
وہرکہ منکر کتاب اللہ است و ہر جاکہ رود مورد عذاب الٰہی است و فکر کن در قرآن
اور جو کوئی قرآن کا منکر ہے وہ جہاں جاوے خدا کے عذاب کے نیچے ہے اور تو قرآن میں ایسا فکر کر
القراٰن حق الفکر ولا تکن کالذی استکبر و
چنانکہ حق فکر است و ہمچو شخصے مباش کہ از راہ تکبر سر مے پیچد
جیسا کہ فکر کرنے کا حق ہے اور اس شخص کی طرح نہ ہو جو تکبر کر کے سر پھیر لیتا ہے
ابٰی ۔ وانہ الحق من ربنا فاقرء سورۃ النور
وہمیں امر از خدا حق است پس سورہ نور را از راہ تدبر بخواں
اور یہی بات خدا کی طرف سے حق ہے۔ پس سورہ نور کو غور سے پڑھ
متدبّرًا لیتجلّٰی علیک ھٰذا النورکالضحٰی ۔
تاکہ برتو ایں نور ہمچو وقت چاشت ظاہر گردد
تاکہ تجھ پر یہ نور دن کی طرح ظاہر ہو
واقرء اٰیۃ3 ۱
وہم چنیں آیت 3 بخواں
اور اسی طرح 3 کی آیت پڑھ