العمارۃ وعَلمًا لساعۃ زوالھا وعبرۃً لمن یخشٰی ۔ خشت آخر ین بود و برائے ساعت زوال یہود نشانے بود و از بہر ترسندگاں مقام عبرت بود اینٹ تھے اور ایک دلیل تھے اس عمارت کے زوال کی گھڑی پر اور ایک عبرت تھے اس شخص کے لئے ثم بعث اللّٰہ نبینا الاُمّيَ فی ارض اُمّ القُرٰی ۔ باز خدا تعالیٰ نبی ما اُمّی محمد صلی اللہ علیہ وسلم را در زمین مکہ مبعوث فرمود جو ڈرتا ہو۔ پھر خدا نے ہمارے پیغمبر اُمّی صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ کی زمین میں مبعوث فرمایا وجعلہٗ مثیل موسٰی ۔ وجعل سلسلۃ خلفاء ہٖ و او را مثیل موسیٰ ساخت و سلسلہ خلفاء او را اور ان کو مثیل موسیٰ علیہ السلام بنایا اور ان کے خلیفوں کا سلسلہ کمثل سلسلۃ خلفاء الکلیم لتکون رِدْءً ا لھا ہمچو سلسلہ خلفاء حضرت موسیٰ نمود تا مددگار و مصدق سلسلہ نخستیں حضرت موسیٰ کے خلیفوں کے سلسلہ کی طرح اور ان کے مشابہ کر دیا تاکہ یہ سلسلہ اس سلسلہ کا مددگار وانّ فی ھٰذا لاٰیۃً لمن یرٰی ۔ وان شئت گردد و دریں برائے بینندگاں نشانے است و اگر خواہی ہو اور اس میں دیکھنے والوں کے لئے ایک نشان ہے اور اگر تو چاہے تو اس فاقرء اٰیۃ 3۱؂ آیت وعد اللّٰہ الذین اٰمنوا منکم بخواں و ازاں مردم مباش کہ آیت وعداللّہ الذین اٰمنوا منکم کو پڑھ لے اور اپنے و لا تتبع الھوٰی ۔ فان فیھا وعد الاستخلاف پیروی ہوا و ہوس مے کنند چراکہ دریں آیت ایں وعدہ است کہ ہوا و ہوس کا پیرو مت بن کیونکہ اس آیت میں صاف وعدہ اس امت کے لئے ایسے خلیفوں کا ہے جو ان خلیفوں