انقض اللّٰہ ظھور ھم ورجعوا یائسین ۔
خدا پشت ہائے اوشاں بشکست و درحالت نومیدی بازگشتند
خدا نے ان کی کمریں توڑ دیں اور وہ ناامید ہوکر پھر گئے۔
الیوم حصحص الحق للناظرین ۔ واستبان
امروز برائے بینندگاں حق ظاہر شد و
آج دیکھنے والوں کے لئے حق ظاہر ہوگیا اور مجرموں کی
سبیل المجرمین ۔ ولم یبق معرضٌ الا الذی
راہ مجرماں ہوید ا گشت و باقی نماند اعراض کنندہ مگر کسے کہ
راہ کھل گئی اور حق سے کنارہ کرنے والا وہی شخص رہا جس کو
حبسہٗ حرمانٌ ازلیٌّ ۔ ولا منکرٌ الّا الذی منعہٗ
محرومی ازلی او را باز داشت و نہ باقی ماند منکرے مگر آنکہ
ازلی محرومی نے روک دیا اور وہی منکر رہا جس کو پیدائشی جورپسندی
عدوانٌ فطریٌ ۔ فنترک ھٰؤلاء بسلامٍ ۔
عادت ظلم فطری او را منع کرد پس ایں کسانے را بسلام ترک مے کنیم نے منع کر دیا پس ہم ان لوگوں کو سلام کے ساتھ رخصت کرتے ہیں
و قدتم الافحام ۔ وتحقّق الاثام ۔ وان لم
و برایشاں حجت تمام شد و ثابت شد جزائے بدی ایشاں و اگر
اور ان پرحجت پوری ہوگئی اور ان کا قابل سزا ہونا ثابت ہوگیا پس اگر اب بھی
ینتھوا فالصبر جدیرٌ ۔ وسوف یُنبّءھم خبیرٌ ۔
باز نیایند پس صبر بہتر است وعنقریب خدائے خبیر ایشاں را متنبہ خواہد کرد
باز نہ آویں پس صبر لائق ہے۔ اور عنقریب وہ جو ان کے حالات پر اطلاع رکھتا ہے ان کو متنبہ کردے گا۔