الانقطاع لیُوْھَبَ لکم الوصل والاقترابُ ۔ وکسّروا
بریدن را تابخشیدہ شود شمارا وصال الٰہی و قربت او وبشکنید
تا خدا کا وصال اور اس کا قرب تمہیں عنایت کیا جائے اور
الاسباب لیُخْلقَ لکم الاسبابُ ۔ وموتوا لیُردّ
اسباب را تا پیدا کردہ شوند برائے شما اسباب وبمیرید تا واپس شود
اسباب کو توڑ دو تاکہ تمہارے لئے اسباب پیدا کئے جائیں اور مرجاؤ تا دوبارہ
الیکم الحیٰوۃ ایّھا الاحباب ۔ الیوم تمّت الحجۃ
سوئے شما زندگی اے دوستان ۔ امروز بر مخالفاں
زندگی تمہیں دی جائے آج مخالفوں پر
علی المخالفین ۔ وانقطعت معاذیر المعتذرین ۔
حجت تمام شد و ہمہ عذر ہائے عذر کنندگاں منقطع شدند
حجت پوری ہوگئی اور عذر کرنے والوں کے سب عذر ٹوٹ گئے
ویئس منکم زمر المضلین والموسوسین ۔
و نومید شدند از شما گروہ ہائے گمراہ کنندگان و وسوسہ اندازندگان
اور تم سے وہ سب گروہ نا امید ہوگئے جو گمراہ کرنے والے اور وسوسہ ڈالنے والے تھے
الذین اکلوا اعمارھم فی ابتغاء الدنیا ولیس لھم
آناں کہ بخوردند عمر ہائے خود را در طلب دنیا و ہیچ
انہوں نے دنیا کی طلب میں اپنی عمریں کھوئیں اور دین میں سے
حظٌّ من الدین ۔ بل ھم کالعمین ۔ فالیوم
حظے از دین اوشاں را نیست بلکہ او شاں ہمچو نابینایان ہستند۔ امروز
کوئی بہرہ حاصل نہ کیا بلکہ وہ اندھوں کی طرح ہیں اور آج