تسئل کل نفسٍ وتدان ۔ البلایا کثیرۃٌ ولا ینجیکم قریب آمد کہ ہر نفس از اعمال خود پرسیدہ شود و جزا دادہ آید۔ بلاہا بسیا ر اند وہیچ کس نزدیک ہے کہ ہر ایک جان اپنے کاموں سے پوچھی جائے اور بدلہ دی جائے۔ بلائیں بہت ہیں اور تمہیں الّا الایمان ۔ والخطایا کبیرۃٌ ولا تذوبھا الّا بجز ایمان نجات نخواہد یافت۔ وخطاہا بزرگ اند و آنہا را نخواہد گداخت مگر صرف ایمان نجات دے گا اور خطائیں بڑی ہیں اور ان کو گداز نہیں کرے گا مگر الذوبان ۔ اتقوا عذاب اللّٰہ ایھا الاعوان ۔ ولمن گداختن۔ اے انصار من از عذاب خدا بترسید و ہرکہ گداز ہو جانا خدا کے عذاب سے اے میرے انصار ڈرو اور جو خاف مقام ربّہٖ جنّتان ۔ فلا تقعدوا مع الغافلین بترسد برائے او دو بہشت اند پس ہمچو غافلاں منشینید خدا سے ڈرے ان کے لئے دو بہشت ہیں پس غافلوں کے ساتھ مت بیٹھو والذین نسوا المنایا ۔ وسارعوا الی اللّٰہ وارکبوا وہمچو آناں نباشید کہ موتہائے خود را فراموش کردہ اند وسوئے خدا بسرعت تمام حرکت کنید و بر ان لوگوں کے ساتھ جنہوں نے اپنی موتوں کو بھلا رکھا ہے۔ خدا کی طرف دوڑو اور تیز رفتار گھوڑوں پر علٰی اعدی المطایا ۔ واترکوا ذوات الضلع و سواری ہائے تیز رفتار سوار شوید واسپان لنگ را بگذارید وناقہ ہائے لاغررا سوار ہو جاؤ ایسے گھوڑوں کو چھوڑو جو لنگڑا کے چلتے ہیں الرذایا ۔ تصلوا الٰی ربّ البرایا ۔ خذوا الانقطاع ترک کنید تاخدائے خود را بیابید۔ لازم گیرید بریدن را تا اپنے خدا کو ملو خدا کی طرف منقطع ہو جانا عادت پکڑو