الی القتال ۔ فلا جھاد الّاجھاد اللسان والاٰیات
کشت و خون متوجہ نشوم ۔ پس ہیچ جہاد بجز جہاد زباں و نشان
خونریزی کی طرف متوجہ نہ ہوں۔ پس کوئی جہاد سوائے زبانی جہاد کے اور نشان اور دلائل کے
والاستدلال ۔ وکذالک امرت ان املأ بیوت
و دلائل باقی نماندہ و ہم چنیں مامورم کہ خانہ ہائے مومناں را
جہاد کے باقی نہیں رہا اور ایسا ہی مجھ کو یہ بھی حکم ہے کہ مسلمانوں کے گھروں کو
المؤمنین وجربھم من المال ۔ ولٰکن لا
وکیسہ ہائے اوشاں را بمال پُر کنم مگر نہ
اور ان کے توشہ دانوں کو مال سے بھر دوں لیکن چاندی سونے
باللجین والدجّال ۔ بل بمال العلم والرشد
بہ سیم و زر بلکہ بمال علم و رشد
کے مال سے نہیں بلکہ علم اور رشد اور
والھدایۃ والیقین علٰی وجہ الکمال ۔ وجعل
و ہدایت و یقین بروجہ کمال و گردانیدن
ہدایت اور یقین کے مال سے اور نیز اس مال سے کہ
الایمان اثبت من الجبال ۔ وتبشیر المثقلین
ایمان مضبوط تر از کوہ ہا ۔ وبشارت دادن آں زیر باراں را کہ
ایمان کو پہاڑوں سے بھی زیادہ مضبوط کیا جائے اور جو لوگ بوجھوں کے نیچے دبے ہوئے ہیں
تحت الاثقال ۔ فبشرٰی لکم قد جاء۔کم المسیح ۔
بارگراں برایشاں افتادہ است پس شما را بشارت باد کہ نزد شما مسیح آمد
ان کو بشارت دی جائے۔ پس تم کو خوشخبری ہو کہ تمہارے پاس مسیح آیا