عین اللّٰہ عالم الاحوال ۔ ولاھدم بہٖؔ عمود
بزرگتر است و تاکہ من بدو ستون
بڑھ کر ہے اور تاکہ میں اس کے ذریعہ سے اس
الافتراء علی اللّٰہ والافتعال ۔ واما الجمال الذی
آں افترا را منہدم کنم کہ بر خدا می بندند ۔ مگر جمالے کہ دادہ شدم
افترا کے ستون کو گرا دوں جو خدا پر باندھتے ہیں۔ لیکن وہ جمال جو مجھ کو
اعطیت فھو اثرٌ لبروزی الاَحْمَدی من اللّٰہ
پس آں اثر آں بروز من است کہ از خدائے صاحب لطف
ملا ہے وہ میرے اس بروز کا اثر ہے جس کا نام بخشش کرنے والے خدا کی
ذی اللطف والنوال ۔ لاعید بہٖ صلاح التوحید
و بخشش بروز احمدی نام می دارد تاکہ من بداں نیکی توحید را
طرف سے بروز احمدی ہے تاکہ میں اس کے ذریعہ سے توحید کی نیکی کو
المفقود من الالسن والقلوب والاقوال والافعال۔
کہ از زبان ہا و دل ہا و گفتار ہا و کردار ہا گم شدہ بود واپس
جو زبانوں اور دلوں اور باتوں اور کاموں سے جاتی رہی ہے واپس لاؤں
واقیم بہٖ امر التدیّن والانتحال ۔ وامرت ان
بیارم و امر دینداری را قائم کنم ومن حکم کردہ شدم کہ
اور اس کے ذریعہ سے دینداری کے امر کو قائم کروں اور مجھ کو حکم دیا گیا ہے کہ
اقتل* خنازیر الافساد والالحاد والاضلال۔
خنزیر ہائے فساد و الحاد و گمراہ کردن را بکشم۔
میں فساد اور الحاد اور گمراہ کرنے کے ان سؤروں کو ماروں
* اللفظ لفظ الحدیث کما جاء فی البخاری والمراد من القتل اتمام الحجۃ وابطال الباطل بالدلائل القاطعۃ والاٰیات السماویۃ لا القتل حقیقۃ۔ منہ