الافناء والاحیاء من الرب الفعال ۔ فاما الجلال فانی کردن و زندہ کردن از پروردگارے کہ بر ہرکار قادر است ۔ مگر جلالے کہ دادہ شدم فانی کرنے اور زندہ کرنے کی صفت دی گئی ہے اور یہ صفت خدا کی طرف سے مجھ کو ملی ہے لیکن وہ جلال الذی اعطیت فھو اثرٌ لبروزی العیسوی من پس آں اثر آں بروز من است کہ عیسوی است از جو مجھ کو دیا گیا ہے وہ میرے اس بروز کا اثر ہے جو عیسوی بروز ہے اور جو خدا کی اللّٰہ ذی الجلال* ۔ لابید بہٖ شر الشرک الموّاج خدائے کہ ذوالجلال است تامن آں بدی شرک رانیست کنم کہ موج زن طرف سے ہے تاکہ میں اس شرک کی بدی کو نابود کروں جو الموجود فی عقائد اھل الضلال ۔المشتعل بکمال و موجود در عقائد گمراہان است و بکمال اشتعال گمراہوں کے عقیدوں میں موج مار رہی ہے اور موجود ہے اور اپنی پوری بھڑک میں الاشتعال ۔ الذی ھواکبر من کل شرٍّ فی مشتعل است آنکہ درچشم خدائے دانندہ احوال از ہرشر بھڑک رہی ہے اور جو حالات کے جاننے والے خدا کی نظر میں ہر ایک بدی سے قد قلت غیر مرۃ انی مااتیت بالسیف ولاالسنان۔ وانما اتیت بالاٰیات بارہا گفتہ ام کہ من بہ تیغ و نیزہ نیا مدہ ام وجز ایں نیست کہ آمدن من بہ نشانہاست میں نے کئی دفعہ بتلایا ہے کہ میں تلواروں اور نیزوں کے ساتھ نہیں آیا ہوں بلکہ میرے پاس نشان ہیں اور والقوۃ القدسیۃ وحسن البیان۔ فجلالی من السماء لا بالجنود والاعوان۔ منہ و قوت قدسیہ وحسن بیان۔ پس جلال من از آسمان است نہ بہ لشکرہا و مددگاراں۔ منہ قوت قدسیہ اور حسن بیان ہے۔ پس میرا جلال آسمانی ہے نہ کہ لشکروں کے ساتھ۔ منہ