و فسخ العھد و فک و لوث بطائفٍ من الجن و عہد را بشکست و آلودہ کرد دل را بوسوسہ شیطان اور عہد کو توڑا اور دل کو شیطان کے وسوسہ سے آلودہ کیا الجنان ۔وانی جئت من الحضرۃ الرفیعۃ العالےۃ ۔ و من از درگاہ بلند و برتر آمدہ ام اور میں بڑی اونچی درگاہ سے آیا ہوں لیری بی ربی من بعض صفاتہ الجلالےۃ ۔ والجمالےۃ ۔ تا پروردگار من بعض صفات جلالیہ خودرا بواسطہ من بنماید و نیزصفات جمالیہ را بنماید تا میرا خدا میرے ذریعہ بعض اپنی جلالی اور جمالی صفتیں دکھلاوے اعنی دفع الضیر وافاضۃ الخیر فان الزمان کان یعنی دفع کردن گزند و رسانیدن خیر چراکہ زمانہ حاجت می داشت یعنی شرکا دور کرنا اور بھلائی کا پہنچانا کیونکہ زمانہ کو اس بات کی حاجت محتاجًا الٰی دافع شرٍ طغٰی۔والٰی رافع خیرٍانحط کہ آں بدی را دفع کردہ شود کہ از حد درگذشتہ است وآں نیکی را بلند کردہ آید کہ فرورفتہ تھی کہ اس بدی کو دور کیا جائے جو حد سے بڑھ گئی تھی اور اس نیکی کو بلند کیا جائے جو واختفٰی ۔ فاقتضت العنایۃ الالٰھیّۃ ان یعطی است وپنہاں گردیدہ۔ پس عنایت الٰہیہ تقاضا فرمود کہ زمانہ را جاتی رہی تھی۔ اس لئے خدا کی عنایت نے چاہا کہ زمانہ کو الزمان ماسأل بلسان الحال ۔ ویرحم طبقات آں چیز دادہ شود کہ بزبان حال مے خواہد و بر مردان وہ چیز دی جاوے جسے وہ اپنی زبان حال سے مانگتا ہے اور مردوں اور