ولٰکن تحدیث لنعم اللّٰہ الذی ھو غارسٌ لھٰذا مگر شکر نعمت ہائے آں خداست کہ او ایں نونہال را نشانیدہ است مگر اس خدا کی نعمتوں کا شکر ہے جس نے اس نونہال کو لگایا ہے۔ الغراس ۔ وانی غسلت بماء النور وطھرت بعین ومن بآب نور غسل دادہ شدم و بچشمہ اور میں نور کے پانی کے ساتھ غسل دیا گیا ہوں اور الٰہی پاکیزگی کے چشمہ القدس من الاوساخ والادناس ۔ وسمّانی ربّی پاکیزگی الٰہی پاکیزہ کردہ شدم از چرکہا و کدورت ہا۔ ونام من رب من میں پاکیزہ کیا گیا ہوں اور صاف کیا گیا ہوں تمام میلوں اور کدورتوں سے اور میرے رب نے میرا نام احمد فاحمدونی و لا تشتمونی و لا توصلوا امرکم احمد نہاد۔ پس ستایش من کنید و مرا دشنام مدہید و امر خود را تا بدرجہ احمد رکھا ہے پس میری تعریف کرو اور مجھے دشنام مت دو اور اپنے امر کو ناامیدی کے الی الالباس ۔ و من حمدنی وما غادر من نوع نومیدی مرسانید وہرکہ ستائش من کرد وقسمے از ستائش نگذاشت درجہ تک مت پہنچاؤ اور جس نے میری تعریف کی اور کوئی قسم تعریف کی نہ چھوڑی حمدٍ فما مان ۔ و من کذب ھٰذا البیان فقد پس او دروغ نہ گفت ومرتکب کذب نشد و ہرکہ تکذیب ایں بیان کرد پس او تو اس نے سچ بولا اور جھوٹ کا ارتکاب نہ کیا۔ اور جس نے اس بیان کو جھٹلایا پس اس نے جھوٹ مان ۔ واغضب الرحمٰن ۔ فویلٌ للذی شک دروغ گفتہ است وخدائے خود را در غضب آوردہ ۔ پس براں شخص واویلاست کہ شک کرد بولا ہے اور اپنے خدا کے غصے کو بھڑکایا ہے پس افسوس اس آدمی پرجس نے شک کیا۔