النور ۔ و المجدد المأمور ۔ والعبد المنصور ۔ آں نورم و مجددے ہستم کہ بامر الٰہی آمدہ و بندہ مدد یافتہ ہستم وہ نور ہوں اور وہ مجدد ہوں کہ جو خدا تعالیٰ کے حکم سے آیا ہے اور بندہ مدد یافتہ ہوں والمھدی المعھود ۔والمسیح الموعود ۔وانی وآں مہدی ہستم کہ آمدن او معہود بود وآں مسیح ہستم کہ وعدہ آمدن او شدہ بود و من اور وہ مہدی ہوں جس کا آنا مقرر ہو چکا ہے اور وہ مسیح ہوں جس کے آنے کا وعدہ تھا اور میں اپنے رب نزلت بمنزلۃٍ من ربّی لا یعلمھا احدٌ من الناس ۔ از پروردگار خود بآں منزلت نزول می دارم کہ ہیچ کس از آدمیان آنرا نمی شناسد سے اس مقام پر نازل ہوا ہوں جس کو انسانوں میں سے کوئی نہیں جانتا وان سرّی اخفٰی واَنْءَی من اکثر اھل اللّٰہ و راز من پوشیدہ و دور تر از اکثر مردان خداست قطع نظر ازینکہ آں راز اور میرا بھید اکثر اہل اللہ سے پوشیدہ اور دور تر ہے قطع نظر اس سے کہ فضلًا عن عامۃ الاُناس ۔ وانّ مقامی ابعد از مردم عامہ پوشیدہ باشد وبہ تحقیق مقام من از دستہائے عام لوگوں کو اس سے کچھ اطلاع ہو سکے اور میرا مقام غوطہ لگانے والوں کے ایسا ہی ہوگا کیونکہ مسیح موعود کا آسمان سے نازل ہونا اسی رمز سے قرار دیا گیا ہے کہ اس کا ہاتھ زمینی اسباب کوؔ نہیں چھوئے گا۔ اور وہ محض آسمان کے پانی سے اسلام کے باغ کی آبپاشی کرے گا۔ کیونکہ اب خدا تعالیٰ اس معجزہ کو دکھلانا چاہتا ہے کہ اسلام اپنے شائع ہونے میں تلوار اور انسانی اسباب کا محتاج نہیں۔ پس جو شخص باوجود اس صریح ممانعت اور موجودگی حدیث یضع الحربکے پھر تلوار اٹھاتا ہے اور غازی بننا چاہتا ہے گویا وہ ارادہ کرتا ہے کہ اس معجزہ کو مشتبہ کردے جس کا ظاہر کرنا خدا تعالیٰ نے ارادہ فرمایا ہے یعنی بغیرانسانی اسباب کے اسلام کو زمین پر غالب اور محبوب الخلائق بنا دینا۔ منہ