وکثرت الذنوب ۔ واشتدت الکروب ۔ فعند وگنہ ہا بسیار شدند وبے قراری ہا سخت شدند پس اور گناہ بہت ہوگئے اور بے قراریاں بڑھ گئیں پس اس ھٰذہ اللیلۃ الیلاء ۔ وظلمات الھوجاء ۔ بروقت ایں شب تاریک و تاریکی ہائے باد تند اندھیری رات کے وقت اور تند ہوا کی تاریکی کے وقت اقتضٰی رحم اللّٰہ نورالسماء* ۔ فانا ذالک بخواست رحمت الٰہی نور آسمان را پس من خدا کے رحم نے تقاضا کیا کہ آسمان سے نور نازل ہو سو میں یہ جو حدیثوں میں لکھا ہے کہ مسیح موعود نازل ہوگا یہ نزول کا لفظ اس اشارہ کیلئے اختیار کیا گیا ہے کہ وہ زمانہ ایسا ہوگا کہ تمام زمین پر تاریکی چھا جائیگی اور دیانت اور امانت اور راستی زمین پر سے اٹھ جائے گی۔ اور زمین ظلم اور جور سے بھر جائیگی۔ تب خدا آسمان سے ایک نور نازل کرے گا اور اس سے زمین کو دوبارہ روشن کر دے گا۔وہ اوپر سے آئے گا کیونکہ نور ہمیشہ اوپر کی طرف سے آتا ہے اور مسیح موعود کا وقت ایسا وقت بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت اشاعت اسلام کے تمام اسباب معطل ہو جائیں گے اور مسلمانوں کے دونوں ہاتھ درماندہ ہو جائیں گے کیونکہ خدا کی غیرت اس بات کو چاہے گی کہ اس اعتراض کو اٹھادے اور دفع اور دور کرے جو کہا گیا ہے کہ اسلام تلوار کے ذریعہ سے پھیلایا گیا پس مسیح موعود کے وقت کے لئے یہ حکم ہے کہ تلواروں کو نیام میں کریں اور مذہب کے لئے کوئی شخص تلوار نہ اٹھائے اور اگر اٹھائے گا تو کافروں سے سخت شکست اٹھائے گا اور ذلیل ہوگا۔ جیسا کہ حضرت موسیٰ کی جماعت جن کو انہوں نے مصر سے نکالا تھا ایسی لڑائیوں میں ہمیشہ مغلوب ہوتی رہی جن لڑائیوں کے لئے موسیٰ کے منشاء کے برخلاف انہوں نے پیش قدمی کی۔ سو اب بھی