انّ الضحَایا ھی المطایا ۔ توصل الی رَبّ البرایا ۔
بہ تحقیق قربانی ہاکہ ہستند ہماں سواری ہا ہستند کہ سوئے خدا تعالیٰ می برند
بہ تحقیق قربانیاں وہی سواریاں ہیں کہ جو خدا تعالیٰ تک پہنچاتی ہیں
وتمحوالخطایا ۔ وتدفع البلایا ۔ ھٰذا ما بلغنا
وخطاہا را محومی کنند وبلاہا را دفع می کنند ۔ ایں آں امر است کہ از
اور خطاؤں کو محو کرتی ہیں اور بلاؤں کو دور کرتی ہیں یہ وہ باتیں ہیں جو ہمیں پیغمبر خدا
من خیر البریۃ ۔ علیہ صلواۃ اللّٰہ والبرکات
بہترین مخلوق یعنی پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم بما رسیدہ است۔ برو درود خدا و برکات
صلی اللہ علیہ وسلم سے پہنچیں جو سب مخلوق سے بہتر ہیں ان پر خدا تعالیٰ کا سلام اور برکتیں ہوں
السنیّۃ ۔ واِنّہٗ أومأ فیہ الٰی حکم الضحیّۃ ۔
بزرگ باد و بہ تحقیق او اشارہ کردہ است دریں حدیث سوئے حکمت ہائے قربانی
اور آنجناب نے ان کلمات میں قربانیوں کی حکمتوں کی طرف فصیح کلموں کے ساتھ
بکلماتٍ کالدرر البھیّۃ ۔ فالأسف کلَّ الأسف
بہ سخنانے کہ ہمچو درہائے روشن ہستند پس افسوس و کمال افسوس است
جو موتیوں کی مانند ہیں اشارہ فرمایا ہے پس افسوس اور کمال افسوس ہے کہ
انّ اکثر الناس لایعلمون ھٰذہ النکات الخفیّۃ ۔
کہ اکثر مردم ایں نکتہ ہائے باریک را نہ مے دانند
اکثر لوگ ان پوشیدہ نکتوں کو نہیں سمجھتے
ولا یتّبعُون ھٰذہ الوصیّۃ ۔ ولیس عندھم
و پیروی ایں وصیت نہ مے کنند۔ و نزد ایشاں
اور اس وصیت کی پیروی نہیں کرتے اور ان کے نزدیک