یَاذَوِی الْحَصَاۃِ ۔ وَمَنْ ضَحّٰی مَعَ عِلْمِ حَقِیْقَۃِ اے صاحبان عقل ۔ وہرکہ قربانی کرد و او را علم ایں امربود کہ حقیقت ایں اس میں غور کرو اور جس نے اپنی قربانی کی حقیقت کو معلوم کر کے قربانی ادا کی ضَحِیَّتِہٖ ۔ وَصِدْقِ طَوِیَّتِہٖ ۔ وَخُلُوْصِ نِیَّتِہٖ۔ قربانی چیست وصدق دل وخلوص نیت می داشت اور صدق دل اور خلوص نیت کے ساتھ ادا کی فَقَدْ ضَحّٰی بِنَفْسِہٖ وَمُھْجَتِہٖ ۔ وَاَبْنَاءِ ہٖ وَحَفَدَتِہٖ ۔ پس بہ تحقیق او قربانی جان خود و فرزندان خود کردہ است پس بہ تحقیق اس نے اپنی جان اور اپنے بیٹوں اور اپنے پوتوں کی قربانی کر دی وَلَہٗ اجر عظیم ۔ کأجر ابراھیم عند ربّہ و مر او را اجرے است بزرگ۔ ہمچو اجر ابراہیم نزد رب کریم اور اس کے لئے اجر بزرگ ہے جیسا کہ ابراہیم کے لئے اس کے رب کے نزدیک اجر تھا الکریم ۔ والیہ اشار سَیّدنا المصطفٰی ۔ و وسوئے ایں اشارہ کردہ است سردار ما کہ برگزیدہ است و اور اسی کی طرف ہمارے سید برگزیدہ اور رسول برگزیدہ نے رسولنا المجتبٰی ۔ وامام المتقین ۔ وخاتم رسول ما کہ چیدہ است وامام پرہیزگاراں وخاتم الانبیاء جو پرہیزگاروں کا امام اور انبیاء کا خاتم ہے النبیین ۔ وقال وھوبعد اللّٰہ اصدق الصادقین۔ ست وفرمود و او بعد از خدا صادق ترین صادقان است اشارہ کیا اور فرمایا اور وہ خداکے بعد سب سچوں سے زیادہ تر سچا ہے