عَنْ ھٰذِہِ الْوَصَایَا ۔ وَلَا تَکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوْا فراموش نکنید و ہمچو آں مردم مشوید کہ کومت بھلاؤ اور ان لوگوں کی طرح مت ہو جاؤ جنہوں نے رَبَّھُمْ وَالْمَنَایَا ۔ وَقَدْ اُشِیْرَ اِلٰی ھٰذَا السِّرِّ خدائے خودرا و موت خود را فراموش کردہ اند۔ و بہ تحقیق اشارہ کردہ شدہ است اپنے خدا اور اپنی موت کو بھلا رکھا ہے اور اس پوشیدہ بھید کی طرف الْمَکْتُومِ ۔ فِیْ کَلَامِ رَبِّنَا الْقَیُّوْمِ ۔ فَقَالَ وَھُوَ در کلام خدائے قیّوم سوئے ایں راز پوشیدہ ۔ پس او تعالیٰ گفت و او خدا تعالیٰ کی کلام میں اشارت کی گئی ہے۔ چنانچہ خدا جو اَصْدَقُ الصَّادِقِیْنَ ۔ 3 اصدق الصادقین است کہ بگو کہ بہ تحقیق نماز من و عبادت من و قربانی من اصدق الصادقین ہے اپنے رسول کو فرماتا ہے کہ ان لوگوں کو کہہ دے کہ میری نماز اور میری عبادت 33 ۱؂۔ فَانْظُرْ و زندگی من و مُردن من برائے خدائے ربّ عالمیان است ۔ پس بہ بیں اور میری قربانی اور میری زندگی اور میری موت سب اس خدا کیلئے ہے جو پروردگار عالمیاں ہے پس دیکھ کَیْفَ فَسَّرَ النُّسُکَ بِلَفْظِ الْمَحْیَا وَالْمَمَاتِ ۔ کہ چگونہ لفظ نُسُک را بلفظ محیا و ممات تفسیر کردہ کہ کیونکر نُسُک کے لفظ کی حیات اور ممات کے لفظ سے تفسیر کی ہے وَاَشَارَ بِہٖ اِلٰی حَقِیْقَۃِ الْاَضْحَاۃِ ۔ فَفَکِّرُوْا فِیْہِ وبدیں تفسیر سوئے حقیقتِ قربانی اشارت نمودہ ۔ پس دریں نکتہ بیند یشید اور اس تفسیر سے قربانی کی حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے پس اے عقلمندو !