کَاْسُ الوِصَالِ ۔ مِنْ اَیْدِی الْمَحْبُوْبِ الَّذِیْ ھُوَ لُجَّۃُؔ او را جام وصال آں محبوب حقیقی مے نو شانند کہ دریائے حسن وجمال کے ہاتھ سے جام وصال پلایا جاتا ہے جوحسن و جمال کا دریا الْجَمَالِ ۔ وَیُدْخَلُ تَحْتَ رِدَاءِ الرُّبُوْبِیَّۃِ ۔ مَعَ است۔ و داخل کردہ مے شود زیر چادر ربوبیّت با آنکہ ہے۔ اور ربوبیت کی چادر کے نیچے داخل کیا جاتا ہے باوجود اس بات کے الْعُبُوْدِیَّۃِ الْاَبَدِیَّۃِ ۔ وَھٰذَا اٰخِرُ مَقَامٍ یَبْلُغُہٗ عبودیت او بطور ابدی مے ماند و ایں آں آخر مقام است کہ عبودیت ابدی طور پر رہتی ہے اور یہ وہ آخری مقام ہے طَالِبُ الْحَقِّ فِی النَّشْأَ ۃِ الْاِنْسَانِیَّۃِ ۔ فَلا تَغْفُلُوْا کہ طالب حق در پیدائش انسانی او را مے یابد ۔ پس ازیں مقام جس تک ایک حق کا طالب انسانی پیدائش میں پہنچ سکتا ہے پس اس مقام سے عَنْ ھٰذَا الْمَقَامِ یَاکَافَّۃَ الْبَرَایَا ۔ وَلَا عَنِ السِّرِّ غافل مشوید اے گروہ مخلوق ۔ و نہ ازاں راز غافل شوید غافل مت ہو اے مخلوق کے گروہ اور نہ اس بھید سے غافل ہو الَّذِیْ یُوْجَدُ فِی الضَّحَایَا ۔ وَاجْعَلُوا الضَّحَایَا۔ کہ در قربانی ہا یافتہ مے شود ۔ و قربانی ہا را جو قربانیوں میں پایا جاتا ہے ۔ اور قربانیوں کو لِرُؤْیَۃِ تِلْکَ الْحَقِیْقَۃِ کَالْمَرَایَا ۔ وَلَا تَذْھَلُوْا برائے دیدن ایں حقیقت آئینہ ہا بگردانید و ایں وصیّت را اس حقیقت کے دیکھنے کے لئے آئینوں کی طرح بنا دو اور ان وصیتوں