عَلٰی وَجْہِ الظِّلِّیَّۃِ ۔ تَحْقِیْقًا لِّمَقَامِ الْخِلَافَۃِ ۔ وَبَعْدَ
بر طریق ظلّیت تا مرتبۂ خلافت متحقق گردد۔ وپس
ظلی طور پر ہوتا ہے تا مقام خلافت متحقق ہو جائے اور پھر
ذَالِکَ یَنْزِلُ اِلَی الْخَلْقِ لِیَجْذِ بَھُمْ اِلَی الرُّوْحَانِیَّۃِ ۔
زیں فرود می آید سوئے مخلوق تااوشاں را سوئے روحانیت بکشد
اس کے بعد خلقت کی طرف اترتا ہے تا اُن کو روحانیت کی طرف کھینچے
وَیُخْرِجَھُمْ مِنَ الظُّلُمَاتِ الْاَرْضِیَّۃِ ۔ اِلَی الْاَنْوَارِ
و تا اوشاں را از تاریکی ہائے زمینی بیروں آوردہ سوئے نورہائے آسمانی
اور زمین کی تاریکیوں سے باہر لاکر آسمانی نوروں کی طرف
السَّمَاوِیَّۃِ ۔ وَیُجْعَلُ وَارِثًا لِکُلِّ مَنْ مَّضٰی مِنْ
ببرد ۔ و ایں انسان وارث کردہ می شود ہمہ آں کسان را
لے جائے اور یہ انسان اُن سب کا وارث کیا جاتا ہے
قَبْلِہٖ مِنَ النَّبِیِّیْنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَاَھْلِ الْعِلْمِ
کہ پیش زو گذشتہ اند از انبیاء و صدّیقان و اہل علم
جو نبیوں اور صدیقوں اور اہل علم
وَالدِّرَایَۃِ ۔ وَشُمُوْسِ الْقُرْبِ وَالْوَلَایَۃِ ۔ وَیُعْطٰی
و درایت۔ وآفتاب ہائے قرب و ولایت ۔ و دادہ می شود
اور درایت میں سے اور قرب اور ولایت کے سورجوں میں سے اس سے پہلے
لَہٗ عِلْمُ الْاَوَّلِےْنَ ۔ وَمَعَارِفُ السَّابِقِیْنَ ۔ مِنْ
او را علم اوّلین و معرفت ہائے سابقین از
گذر چکے ہیں اور دیا جاتا ہے اس کو علم اوّلین کا اور معارف گذشتہ