مَدَارِجِ الْاَتْقِیَاءِ ۔ وَبِہٖ یَکْمُلُ سَاءِرُ مَرَاحِلِ الصِّدِّیْقِیْنَ
پرہیزگاران ۔وبدیں کامل مے شوند منزلہائے راستبازاں و برگزید گان
ختم ہو جاتے ہیں اور سب منزلیں راستبازوں اور برگزیدوں کی
وَالْاَصْفِیَاءِ ۔ وَاِلَیْہِ یَنْتَھِیْ سَیْرُ الْاَوْلِیَاءِ ۔ وَاِذَا
وہمین است کہ منتہائے سیراولیاء است ۔ و چوں
پوری ہو جاتی ہیں اور یہاں تک پہنچ کر سیر اولیاء کا اپنے انتہائی نقطہ تک جا پہنچتا ہے اور جب
بَلَغْتَ اِلٰی ھٰذَا فَقَدْ بَلَّغْتَ جُھْدَکَ اِلَی الْاِنْتِھَاءِ۔
تا ایں مقام برسیدی پس کوشش خود را بدرجہ انتہا رسانیدی
تو اس مقام تک پہنچ گیا تو تونے اپنی کوشش کو انتہا تک پہنچا دیا
وَفُزْتَ بِمَرْتَبَۃِ الْفَنَاءِ ۔ فَحِیْنَءِذٍ تَصِلُ شَجَرَۃُ
وبمرتبۂ فنا فائز شدی ۔ پس دریں وقت درخت سلوک تو
اور فنا کے مرتبہ تک پہنچ گیا۔ پس اس وقت تیرے سلوک کا درخت
سُلُوْکِکَ اِلٰی اَتَمِّ النَّمَاءِ ۔ وَتَبْلُغُ عُنُقُ رُوْحِکَ
درگوالیدن خود بآں درجہ نشوو نما خواہد رسید کہ درجۂ کاملہ است و گردن رُوح تو
اپنے کامل نشو ونما تک پہنچ جائے گا اور تیری رُوح کی گردن
اِلٰی لُعَاعِ رَوْضَۃِ الْقُدْسِ وَالْکِبْرِیَاءِ ۔ کَالنَّاقَۃِ
تاسبزہ نرم روضہ قدس و بزرگی منتہی خواہد شد ۔ و آں شتر مادہ
تقدس اور بزرگی کے مرغزار کے نرم سبزہ تک پہنچ جائے گی ۔ اُس اونٹنی کی مانند
الْعَنْقَاءِ ۔ اِذَا اَوْصَلَتْ عُنُقَھَا اِلٰی الشَّجَرَۃِ الْخَضْرَاءِ۔
را بماند کہ گردن او دراز باشد و او گردن خود را تا درخت سبز رسانیدہ باشد
جس کی گردن لمبی ہو اور اُس نے اپنی گردن کو ایک سبز درخت تک پہنچ دیا ہو