وَیُدْخِلَھَا فِیْ نَفْسِہٖ حَتّٰی تَسْرِیَ فِیْ کُلِّ ذَرَّۃِ الْوَجُوْدِ۔ ودر نفس خود ایں حقیقت را در آرد تا آنکہ در ہر ذرّہ وجود سرایت کند اور اس حقیقت کواپنے نفس کے اندر داخل کرے یہاں تک کہ وہ حقیقت ہر ذرّہ وجودمیں داخل ہو جائے۔ وَلَا یَھْدَءْ وَلَا یَسْکُنْ قَبْلَ اَدَاءِ ھٰذِہِ الضَّحِیَّۃِ و راحت و آرام اختیار نہ کند تا بوقتے کہ ایں قربانی را برائے ربّ معبود خود اور راحت اور آرام اختیار نہ کرے جب تک کہ اس قربانی کو اپنے رب معبود کے لئے لِلرَّبِّ الْمَعْبُوْدِ ۔ وَلَا یَقْنَعْ بِنَمُوْذَجٍ وَقِشْرٍ نگذارد و ہمچو ناداناں و جاہلان محض بر نمونہ و پوست ادا نہ کرلے۔ اور جاہلوں اور نادانوں کی طرح صرف نمونہ اور پوست بے مغز کَالْجُھَلاءِ وَالْعُمْیَانِ ۔ بَلْ یُؤَدِّیْ حَقِیْقَۃَ قناعت نہ ورزد بلکہ باید کہ حقیقت قربانی خود را پر قناعت نہ کر بیٹھے بلکہ چاہئے کہ اپنی قربانی کی حقیقت اَضْحَاتِہٖ ۔ وَیَقْضِیْ بِجَمِیْعِ حَصَاتِہٖ ۔ وَرُوْحِ تُقَاتِہٖ بگذارد ۔ و بہ تمام عقل خود و رُوح پرہیزگاری خود کو بجالاوے اور اپنی ساری عقل کے ساتھ اور اپنی پرہیزگاری کی رُوح سے رُوْحَ الْقُرْبَانِ ۔ ھٰذَا ھُوَ مُنْتَھٰی سُلُوْکِ السَّالِکِےْنَ۔ روح قربانی را ادا کند ایں آں درجہ است کہ براں سلوک سالکاں انتہا پذیر مے شود قربانی کی رُوح کو ادا کرے۔ یہ وہ درجہ ہے جس پر سالکوں کا سلوک انتہا پذیر ہوتاہے وَغَایَۃُ مَقْصَدِ الْعَارِفِیْنَ ۔ وَعَلَیْہِ یَخْتَتِمُ جَمِیْعُ ومقصد عارفاں بغایت مطلوب مے رسد ۔ و بریں ختم مے شوند درجہ ہائے اور عارفوں کا مقصد اپنی غایت کو پہنچتا ہے ۔ اور اس پرتمام درجے پرہیزگاروں کے