لَہٗ نَحَرَ نَاقَۃَ نَفْسِہٖ وَتَلَّھَالِلْجَبِیْنِ ۔ وَمَا نَسِیَ الْحَیْنَ شتر مادہ نفس راکشتہ واز بہر ذبح برپیشانی فگندہ و ہیچ وقتے موت خودرا اپنے نفس کی اونٹنی کو اس کے لئے قربان کر دیا ہو اور ذبح کے لئے پیشانی کے بل اسکو گرا دیا ہو اور موت سے فِیْ حِیْنٍ ۔ فَحَاصِلُ الْکَلَامِ اَنَّ النُّسُکَ وَالضَّحَایَا فراموش نہ کردہ پس خلاصہ کلام این است کہ ذبیحہ و قربانی ہا کہ دراسلام مرّوج اند ایک دم غافل نہ ہو پس حاصل کلام یہ ہے کہ ذبیحہ اور قربانیاں جو اسلام میں مرّوج ہیں فِی الْاِسْلَامِ ۔ ھِیَ تَذْکِرَۃٌ لِّھٰذَا الْمَرَامِ ۔ وَ حث آں ہمہ از بہر ہمیں مقصود کہ بذل نفس است یاد دہانی است و وہ سب اسی مقصود کے لئے جو بذل نفس ہے بطور یاددہانی ہیں اور عَلٰی تَحْصِیْلِ ھٰذَا الْمَقَامِ ۔ وَاِرْھَاصٌ لِحَقِیْقَۃٍ تَحْصُلُ برائے حاصل کردن ہمیں مقام ترغیب و تحریص است دبرائے ہمیں حقیقت کہ پس از سلوک تام اس مقام کے حاصل کرنے کے لئے ایک ترغیب ہے اور اس حقیقت کے لئے جو سلوک تام کے بعد بَعْدَ السُّلُوْکِ التَّامِّ ۔ فَوَجَبَ عَلٰی کُلِّ مُؤْمِنٍ وَّ میسر مے شود ارہاص است یعنی نشان چیزے پیش از ظہور چیزے پس برہر مرد مومن و حاصل ہوتی ہے ایک ارہاص ہے ۔ پس ہر ایک مرد مومن اور مُؤْمِنَۃٍ کَانَ یَبْتَغِیْ رِضَاءَ اللّٰہِ الْوَدُوْدِ ۔ اَنْ زن مومنہکہ طالب رضائے خدائے ودود باشد واجب است کہ عورت مومنہپر جو خدائے ودود کی رضا کی طالب ہے واجب ہے کہ یَّفْھَمَ ھٰذِہِ الْحَقِیْقَۃَ وَیَجْعَلَھَا عَیْنَ الْمَقْصُوْدِ۔ ایں حقیقت را بفہمد وایں را عین مقصود خود بگرداند اس حقیقت کو سمجھے اور اس کو اپنے مقصود کا عین قرار دے