لَہٗ خِفَاءٌ وَلَا مِرَاءٌ ۔ فِیْ اَنَّ ھٰذَا اِیْمَاءٌ ۔ اِلٰی اَنَّ برو پوشیدہ نخواہد ماند و دریں امر ہیچ نزاعے دامن اونخواہد گرفت کہ ایں اشتراک دو معنی کہ در لفظ نُسک موجود پوشیدہ نہیں رہے گا اور اس امر میں کسی قسم کی نزاع اس کے دامن کو نہیں پکڑے گی کہ یہ دو معنوں کا اشتراک کہ جو نسک کے الْعِبَادَۃَ الْمُنْجِیَۃَ مِنَ الْخَسَارَۃِ ۔ ھِیَ ذَبْحُ النَّفْسِ است سوئے ایں راز اشارہ است کہ پرستشے کہ از خسران آخرت نجات دہد آں کشتن نفس امارہ است کہ برائے بدی لفظ میں پایا جاتاہے اس بھید کی طرف اشارہ ہے کہ عبادت جو آخرت کے خسارہ سے نجات دیتی ہے وہ اس نفس امارہ کا الْاَمَّارَۃِ ۔ وَنَحْرُھَا بِمُدَی الْاِنْقِطَاعِ اِلَی اللّٰہِ وبدکاری بسیار دربسیار جوش ہا میدارد و حاکمے است بسیار بد فرما پس نجات دریں است کہ ایں بد فرمارا ذبح کرنا ہے کہ جو بُرے کاموں کیلئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا ہے اور ایسا حاکم ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم دیتا رہتا ہے ذِی الْاٰ لَاءِ وَالْاَمْرِ وَالْاِمَارَۃِ ۔ مَعَ تَحَمُّلِ اَنْوَاعِ بکارد ہائے بریدن از خلق و آرمیدن بحق ذبح کنند وازو سوئے خدائے بگریزند کہ حکومت حقیقی و فرمان روائی بدست قبضۂ قدرت پس نجات اس میں ہے کہ اس بُرا حکم دینے والے کو انقطاع الی اللہ کے کاردوں سے ذبح کر دیا جائے اور خلقت سے قطع تعلق کر کے الْمَرَارَۃِ ۔ لِتَنْجُوَ النَّفْسُ مِنْ مَوْتِ الْغَرَارَۃِ ۔ وَ اوست و با ایں ہمہ از بہر ایں کارگو ناگون تلخی ہارا باید برداشت تانفس ازموت غفلت نجات یابد و خدا تعالیٰ کو اپنا مونس اور آرام جان قرار دیا جائے اور اسکے ساتھ انواع اقسام کی تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے تا نفس غفلت ھٰذَا ھُوَ مَعْنَی الْاِسْلَامِ ۔ وَحَقِیْقَۃُ الْاِنْقِیَادِ التَّامِّ ۔ ہمیں است معنی اسلام وہمین ست حقیقت اطاعت کاملہ کی موت سے نجات پاوے اور یہی اسلام کے معنے ہیں اور یہی کامل اطاعت کی حقیقت ہے وَالْمُسْلِمُ مَنْ اَسْلَمَ وَجْھَہٗ لِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ ۔ وَ ومسلمان آنکس است کہ برائے خدا تعالیٰ گردن خود ازبہر ذبح شدن نہادہ باشد و اور مسلمان وہ ہے جس نے اپنا منہ ذبح ہونے کیلئے خدا تعالیٰ کے آگے رکھ دیا ہو۔ اور