یَدُلُّ قَطْعًا عَلٰی اَنَّ الْعَابِدَ فِی الْحَقِیْقَۃِ ھُوَالَّذِیْ ذَبَحَ
در معنی لفظ نسک یافتہ می شود ایں را بریں امر دلالت قطعی است کہ درحقیقت عابدو پرستار ہماں کس تو اند بود کہ
نسک کے معنوں میں پایا جاتا ہے قطعی طور پر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ حقیقی پرستاراور سچا عابد وہی شخص ہے
نَفْسَہٗ وَقُوَاہُ ۔ وَکُلَّ مَنْ اَصْبَاہُ لِرِضٰی رَبِّ الْخَلِیْقَۃِ
نفس خود را وہمہ قوتہائے خودرا وہمہ آں چیز ہارا کہ دل او بردہ اند و محبوب اوشدہ اند برائے رضا جوئی پروردگار
جس نے اپنے نفس کو مع اس کی تمام قوتوں اور مع اس کے اُن محبوبوں کے جن کی طرف اُس کا دِل کھینچا گیا ہے اپنے رب کی
وَ ذَبِّ الْھَوٰی ۔ حَتّٰی تَھَافَتَ وَانْمَحٰی ۔ وَذَابَ
خود ذبح کردہ است و خواہش نفسانی را دفع کردہ است بحدیکہ آں خواہش پارہ پارہ شدہ بیفتاد وازو نشانے نماند
رضا جوئی کیلئے ذبح کر ڈالا ہے اور خواہش نفسانی کو دفع کیا یہاں تک کہ تمام خواہشیں پارہ پارہ ہو کر گِر پڑیں اور نابود
وَغَابَ وَاخْتَفٰی ۔ وَھَبَّتْ عَلَیْہِ عَوَاصِفُ الفَنَاءِ ۔
وپوشیدہ شد وپنہاں گردید ۔ و برد تند بادہائے فنا ونیستی بوزیدند
ہوگئیں اور وہ خود بھی گداز ہوگیا اور اسکے وجود کا کچھ نمود نہ رہا اور چھپ گیا اور فنا کی تُند ہوائیں اس پر چلیں اور
وَسَفَتْ ذَرَّاتِہٖ شَدَاءِدُ ھٰذِہِ الْھَوْجَاءِ ۔ وَمَنْ
وذرّہ ہائے او را سختی ہائے بادتند از جا ببرد ۔ وہرکہ دریں
اس کے وجود کے ذرّات کو اس ہوا کے سخت دھکّے اُڑا کر لے گئے ۔ اور جس شخص نے
فَکَّرَ فِیْ ھٰذَیْنِ الْمَفْھُوْمَیْنِ الْمُشْتَرِکَےْنِ ۔ وَتَدَبَّرَ
ہر دو مفہوم کہ باہم در لفظ نسک اشتراک می دارند غور کردہ باشد
ان دونوں مفہوموں میں کہ جو باہم نسک کے لفظ میں مشارکت رکھتے ہیں غور کی ہوگی اور اس مقام کو تدبّر
الْمَقَامَ بِتَیَقُّظِ الْقَلْبِ وَفَتْحِ الْعَیْنَیْنِ ۔ فَلَا یَبْقٰی
وایں مقام رابنگاہ تدبّر دیدہ وبہ بیدارئ دل و کشادن ہردو چشم ہمہ پیش وپس آنرا زیر نظر داشتہ باشد۔ پس
کی نگاہ سے دیکھا ہوگا اور اپنے دل کی بیداری اور دونوں آنکھوں کے کھولنے سے پیش وپس کو زیر نظر رکھا ہوگا پس اُس پر