الْعَمْلُ فِیْ مِلَّتِنَا مِمَّا یُقَرِّبُ اِلَی اللّٰہِ سُبْحَانَہٗ ۔ وَحُسِبَ
ازاں کارہا شمارکردہ شدہ است کہ موجب قرب او سبحانہٗ مے باشند۔ و ہمچو آں
ہمارے دین میں ان کاموں میں سے شمار کیا گیا ہے کہ جو اللہ تعالیٰ کے قرب کا موجب ہوتے ہیں اور اُس
کَمَطِیْءَۃٍ تُحَاکِی الْبَرْقَ فِی السَّیْرِ وَلُمْعَانہ۔ فَلِاَجْلِ ذَالِکَ
مرکبے پنداشتہ اند کہ درسیر خود برق رامشابہ باشد و بدر خش آں بماند پس از بہر ہمیں سبب
سواری کی طرح یہ سمجھے گئے ہیں کہ جو اپنی سیر میں بجلی سے مشابہ ہو جس کو بجلی کی چمک سے مماثلت حاصل ہو اور
سُمِّیَ الضَّحَایَا قُرْبَانًا ۔ بِمَا وَرَدَ اِنَّھَا تَزِیْدُ قُرْبًا وَلُقْیَانًا۔
ایں ذبیحہ ہا راقربانی نام نہادہ اند چراکہ در احادیث وارد شدہ کہ آنہا موجب قربت و ملاقات اوسبحانہ ہستند
اِسی وجہ سے ان ذبح ہونیوالے جانوروں کا نام قربانی رکھا گیا کیونکہ حدیثوں میں آیا ہے کہ یہ قربانیاں خدا تعالیٰ کے قرب اور ملاقات
کُلَّ مَنْ قَرَّبَ اِخْلَاصًا وَتَعَبُّدًا وَاِیْمَانًا ۔ وَاِنَّھَا مِنْ اَعْظَمِ
کسے را کہ قربانی بگذارد از روئے اخلاص و خدا پرستی و ایمان داری ۔ وایں قربانی ہا از بزرگتر
کا موجب ہیں اس شخص کے لئے کہ جو قربانی کو اخلاص اور خدا پرستی اور ایمان داری سے ادا کرتا ہے اور یہ قربانیاں شریعت کی
نُسُکِ الشَّرِیْعَۃِ ۔ وَلِذَالِکَ سُمِّیَتْ بِالنَّسِیْکَۃِ ۔وَالنُّسُکُ
عبادات شریعت ہستند واز بہر ہمیں وجہ نام اینہا نسیکہ داشتہ اند و نُسُک در زبان عربی
بزرگتر عبادتوں میں سے ہیں اور اسی لئے قربانی کا نام عربی میں نسیکۃ ہے اور نُسُک کا لفظ عربی زبان میں
اَلطَّاعَۃُ وَالْعِبَادَۃُ فِی اللِّسَانِ الْعَرَبِیَّۃِ ۔ وَکَذَالِکَ جَاءَ
بمعنی فرمانبرداری و بندگی آمدہ ۔ ہم چنیں ایں لفظ نُسُک
فرمانبرداری اور بندگی کے معنوں میں آتا ہے اور ایسا ہی یہ لفظ یعنی نُسُک
لَفْظُ النُّسُکِ بِمَعْنَی ذَبْحِ الذَّبِیْحَۃِ ۔ فَھٰذَ الْاِشْتَرَاکُ
بمعنی ذبح کردن جانورا نے کہ ذبح کردنی ہستند نیز ہم در لُغت مذکور مستعمل شدہ۔ پس ایں اشتراک
اُن جانوروں کے ذبح کرنے پر بھی زبان مذکور میں استعمال پاتا ہے جن کا ذبح کرنا مشروع ہے۔ پس یہ اشتراک کہ جو