مِنْ اِبْتِدَاءِ زَمَانِ الْاِسْلََامِ ۔ اِلٰی ھٰذِہِ الْاَیَّامِ ۔ وَ
اسلام تا ایں ایام کردہ مے شود وگمان من این است کہ ایں
زمانۂ اسلام کے ابتدا سے ان دنوں تک کیا جاتا ہے ۔ اور میرا گمان ہے
ظَنِّیْ اَنَّ الْاَضَاحِیَ فِیْ شَرِیْعَتِنَا الْغَرَّاءِ ۔ قَدْخَرَجَتْ
قربانیہا کہ درشریعت روشن مامے کنند از حدّ شمار بیروں ہستند وسبقت بردہ
کہ یہ قربانیاں جو ہماری اس روشن شریعت میں ہوتی ہیں احاطہ شمار سے
مِنْ حَدِّ الْاِحْصَاءِ۔ وَفَاقَتْ ضَحَایَا الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ
اند برآں قربانیہا کہ مردمان از امّت ہائے سابقہ کہ امت انبیاء
باہر ہیں۔ اور ان کو اُن قربانیوں پر سبقت ہے کہ جو نبیوں کی پہلی امتوں کے
مِنْ اُمَمِ الْاَنْبِیَاءِ ۔ وَبَلَغَتْ کَثْرَۃُ الذَّبَاءِحِ اِلٰی حَدٍّ غُطِّیَ
علیہم السلام بودند می کردند۔ وکثرت ذبیحہ ہا بحدّے رسیدہ است کہ پوشیدہ شد
لوگ کیاکرتے تھے اورقربانیوں کی کثرت اس حد تک پہنچ گئی ہے کہ ان کے
بِہٖ وَجْہُ الْاَرْضِ مِنَ الدِّمَاءِ ۔ حَتّٰی لَوْجُمِعَتْ دِمَاءُ ھَا
روئے زمین از خون آں ہا۔ بحدّے کہ اگر جمع کردہ شوند آں خون ہا
خونوں سے زمین کا منہ چھپ گیا ہے۔ یہاں تک کہ اگر اُن کے خون جمع کئے
وَاُرِیْدُ اِجْرَاءُ ھَا لَجَرَتْ مِنْھَا الْاَنْھَارُ۔ وَسَالَتِ الْبِحَارُ
و ارادہ کردہ شود کہ آنہارا جاری کنند البتہ از اں ہا نہرہا جاری شوند و دریاہا بروند
جائیں اور اُن کے جاری کرنے کا ارادہ کیا جائے تو البتہ ان سے نہریں جاری ہو جائیں اور دریا بہ نکلیں
وَفَاضَتِ الْغُدْرُ وَالْاَوْدِیَۃُ الْکِبَارُ ۔ وَقَدْعُدَّ ھٰذَا
وتمام زمین ہائے نشیب و وادیہائے بزرگ ازخون رواں گردند ۔ وایں کار در دین ما
اور زمین کے تمام نشیبوں اور وادیوں میں خون رواں ہونے لگے ۔ اور یہ کام