سیدی خیر المرسلین۔وہذا ہو معنی وَآخَرِینَ مِنْہُمْ
کما لا یخفٰی علی المتدبّرین. ومَن فَرّق بینی و
بین المصطفٰی، فما عرفنی وما رأی. وإن
نبیّنا صلّی اللّہ علیہ و سلم کان آدمَ خاتمۃِ
الدنیا ومنتہی الأیام، وخُلِق کآدم بعد
ما خُلق علی الأرض کلّ نوع من الدواب
وکلّ صنف من السباع والأنعام، ولمّا خلَق
آقائے من خیرالمرسلین داخل شد۔ و ہمیں معنیٰ است مر لفظ آخرین منہم را
چنانکہ بر اندیشہ کنندگان پوشیدہ نیست۔ و آنکہ در من و در مصطفی
تفریق مے کند او مرا نہ دیدہ است و نہ شناختہ است۔ و ہر آئینہ
نبیء ما صلی اللہ علیہ وسلم آدم خاتمہ دنیا
و پایان روزہائے زمانہ بودند و آنحضرت مانند آدم مخلوق شدند
بعد زاں کہ بر زمین ہر گونہ حشرات
و وحوش و درندہا پیدا آمدند و ہر گاہ
سردار خیر المرسلین کے صحابہ میں داخل ہوا اور یہی معنی آخرین منہم کے لفظ کے
بھی ہیں جیسا کہ سوچنے والوں پر پوشیدہ نہیں اور جو شخص مجھ میں اور مصطفی میں
تفریق کرتا ہے اُس نے مجھ کو نہیں دیکھا ہے اور نہیں پہچاناہے۔ اور بے شک
ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے خاتمہ کے آدم
اور زمانہ کے دنوں کے منتہیٰ تھے اور آنحضرت آدم کی طرح پیدا کیے گئے
اس کے بعد کہ زمین پر ہر طرح کے کیڑے مکوڑے
اور چارپائے اور درندے پیدا ہوگئے اور جس وقت