ہو نبیّنا صلّی اللّٰہ علیہ و سلم، والنسبۃ بینی وبینہ کنسبۃ مَن علّم وتعلَّمَ، وإلیہ أشار سبحانہ فی قولہ’’3 ۱؂ ‘‘ ففَکِّرْ فی قولہ ’’آخَرِینَ‘‘۔وأنزل اللّہ علیَّ فیض ہذا الرسول فأتمَّہ وأکملَہ، وجذَب إلیَّ لطفہ وجُودَہ، حتّی صار وجودی وجودَہ، فمَن دخل فی جماعتی دخل فی صحابۃ نبی کریم ماست صلی اللہ علیہ وسلم و نسبت من با جناب وے نسبت اُستاد و شاگرد است و بسوئے ہمیں سخن اشارہ مے کند قول خداوندی 3 پس در لفظ آخرین فکر بکنید۔ و خدا بر من فیض ایں رسول کریم فرود آورد و آں را کامل گردانید و لطف وجود آں نبیء کریم را بسوئے من بکشید تا اینکہ وجود من وجود او گردید پس آنکہ در جماعت من داخل شد فی الحقیقت در صحابہ ہمارے نبی کریم ہیں صلی اللہ علیہ وسلم اور میری نسبت اُس کی جناب کے ساتھ اُستاد اور شاگرد کی نسبت ہے اور خداتعالیٰ کا یہ قول کہ 3 اسی بات کی طرف اشارہ کرتا ہے پس آخرین کے لفظ میں فکر کرو۔ اور خدا نے مجھ پر اُس رسول کریم کا فیض نازل فرمایا اور اس کو کامل بنایا اور اس نبی کریم کے لطف اور جُود کو میری طرف کھینچا یہاں تک کہ میرا وجود اس کاوجود ہوگیا پس وہ جو میری جماعت میں داخل ہوا درحقیقت میرے