اللّہ ہذہ الخلیقۃ من أنواع النَّعَم والسباع والدود علی الأرضین؛ أعنی کلَّ حزب من الفاجرین والکافرین، والذین آثروا الدنیا علی الدین، وخلَق فی السماء نجومہا وأقمارہا وشموسہا أعنی النفوس المستعدّۃ من الطاہرین المنوّرین، خلَق بعد ہذا آدمَ الذی اسمہ محمد وأحمُد، وہو سیدُ وُلْدِ آدمَ وأتقی وأسعدُ، وإمامُ خدا ایں مخلوق را از انواع وحوش و درندہا و مورہا بر زمین بیافرید یعنی ہر گروہے را از فاجراں و کافراں۔ و دنیا پرستاں بر روئے کار آورد و در آسمان ستارہ ہا و مہتاب ہا و آفتاب ہا یعنی نہ نفوسِ مستعدہ را از پاکاں و نورانیاں بظہور آورد بعد ازاں آں آدم را خلعت وجود پوشانید کہ اسم او محمد و احمد است صلی اللہ علیہ وسلم کہ اوسردار اولاد آدم و امام آفرینش و از جملہ تقی و سعید است خدا نے اس مخلوق کو یعنی حیوانوں اور درندوں اور چیونٹیوں کو زمین پر پیدا کیا یعنی فاجروں اور کافروں اور دنیا پرستوں کے ہر ایک گروہ کو پیدا کیا اور آسمان میں ستارے اور چاندوں اور سورجوں یعنی پاکوں کے نفوس مستعدہ کو ظہور میں لایا تو بعد اس کے اُس آدم کو وجود کا خلعت پہنایا جس کا نام محمد اور احمد ہے صلی اللہ علیہ وسلم اور وہ آدم کی اولاد کا سردار اور خلقت کا امام اور سب سے زیادہ تقی اور سعیدہے۔