زمان نوع البشر کدائرۃ یتصل النقطۃ الآخرۃ بنقطتہا الأولٰی، ولیدل علی التوحید الذی دُعی إلیہ الإنسان. والتوحید أحبُّ الأشیاء إلی ربّنا الأعلی، فاختار وَضْعًا دوریًّا فی خلق الإنسان، فلذالک ختَم علی آدم کما کان بدأ من آدم فی أوّل الأوان، و إن فی ذالک لآیۃ للمتفکّرین۔ وإنّ آدم آخر الزمان حقیقۃً زمانہ نوع بشر مانند آں دائرہ گردد کہ نقطۂ آخری وے با نقطۂ اوّلینش پیوند مے یابد و نیز بجہت آں کہ دلالت برآں توحید بکند کہ انسان را بسوئے آں خواندہ شدہ است و توحید پروردگار مارا محبوب ترین چیزہاست ازیں سبب در آفرینش انسان وضع دَوری را اختیار فرمود و بہمیں سبب بر آدم ختم نمود چنانکہ در آغاز ابتدا از آدم نمود و برائے فکر کنندگان دریں نشان بس بزرگ است۔ و آدم آخر زمان درحقیقت تا کہ نوع بشر کازمانہ اُس دائرہ کی طرح ہو جائے جس کا آخری نقطہ اُس کے پہلے نقطہ سے مل جاتا ہے اور نیز اس لئے کہ اس توحید پر دلالت کرے کہ جس کی طرف انسان کو بلایا گیا ہے۔ اور توحید ہمارے پروردگار کو سب چیزوں سے زیادہ پیاری ہے۔اس لئے انسان کی پیدائش میں وضع دَوری کو اختیار فرمایا۔ اور اسی سبب سے آدم پر ختم کیا جیسا کہ شروع میں آدم سے ابتدا کیا اور فکر کرنے والوں کے لئے اس میں بڑا بھاری نشان ہے اور آخر زمانہ کا آدم در حقیقت