ذالک لیعلم الناس أن اللّہ ہو الأحد الفرد الذی صبّغ کلّ ما خلقہ بصبغ الأحدیۃ، ولیعرفوا أنہ ہو ربّ العالمین۔ وحاصل الکلام أن اللّہ وترٌ یحبّ الوتر، فاقتضتْ وَحْدتُہ أن یکون الإنسان الذی ہو خاتم الخلفاء مشابہًا بآدم الذی ہو أوّل مَن أُعطیَ خلافۃً عُظمٰی و أوّلُ مَن نُفخ فیہ الروح من رَبّ الوریٰ، لیکون و ایں بجہت آں ست کہ مردم بدانند کہ خدائے یگانہ و یکتا است آنکہ ہمہ آفرینش را برنگ یگانگی رنگین گردانیدہ است وبجہت آنکہ بشناسند کہ پروردگار جہاں و جہانیاں ہماں است۔ و حاصل کلام آں کہ خدا یکتاست ویکتائی را دوست دارد لاجرم یکتائی او خواست کہ آں انسان خاتم خلفاء باشد مشابہ بآں آدم بشود کہ اول خلفاء بود و اول کسے از مخلوقات بود کہ در وے روح دمیدہ شدہ بود۔ و ایں بجہت آں کرد کہ اور یہ اس لئے ہے کہ لوگ جان لیں کہ خدا واحد اور یکتا ہے جس نے ساری مخلوقات کو یگانگت کے رنگ سے رنگ دیا ہے اور اس لئے تا کہ پہچان لیں کہ جہانون کاپروردگار وہی ہے۔ اور حاصل کلام یہ کہ خدا اکیلا ہے اور ایک ہونے کو دوست رکھتا ہے۔ اس لئے اُس کی یکتائی نے چاہا کہ کہ وہ انسان جو خلیفوں کا خاتم ہو اُس آدم سے مشابہ ہو جو سب خلیفوں کا پہلا تھا اور مخلوقات میں اول شخص تھا جس میں خدا کی روح پُھونکی گئی تھی اور یہ اس لئے کیا