الأوان، لتستدیر دائرۃ الفطرۃ، ولِیُشابہَ الخاتمۃُ
بالفاتحۃ، ولیکون ہذا التشابہ للتوحید
کسلطان مبین، ولِیدُلَّ المصنوع علی صانعہ
بالدلالۃ الصوریّۃ، فإن الہیءۃ المستدیرۃ
تُضاہی الوحدۃَ، بل تشتمل علی معنی الوحدۃ،
و لذالک یوجد استدارۃٌ فی کل ما خُلق من
البسائط، ولا یوجد بسیط خارجًا من الکُرْویۃ.
و ایں ہمہ سبب آں کرد تادائرہ فطرۃ مستدیر گردد
و نیز بجہت آنکہ ایں مشابہت برائے توحید
دلیلے روشن گردد۔ ونیز برائے آنکہ کہ مصنوع با دلالت صوری برصانع
خویش دلالت نماید۔ زیراکہ ہیئت مستدیر
مانند وحدت مے گردد بلکہ بر معنی وحدت مشتمل می باشد
ازینجا است کہ در تمام آفرینش کہ از قسم بسائط است
استدرات یافتہ مے شود۔ و ہیچ کدام چیزے بسیط از کرویت بیروں نیست
اور یہ سب کچھ اس لئے کیا کہ فطرت کا دائرہ گول ہو جائے۔
اور نیز اس لئے کہ یہ مشابہت توحید کے لئے
ایک روشن دلیل بن جائے۔ اور نیز اس لئے کہ مصنوع صوری دلالت کے ساتھ
اپنے بنانے والے پر دلالت کرے کیونکہ گول چیز کی ہیئت
وحدت کی طرح ہو جاتی ہے بلکہ وحدت کے معنوں میں مشتمل ہوتی ہے
اِسی واسطے بسائط کی قسم کی پیدائش میں گولائی پائی جاتی ہے۔
اور کوئی بسیط چیز کرویت سے باہر نہیں ہے۔