وخالفَ بعضہا بعضا، وما کان آدم لیملکہم
ویکون حَکَمًا علیہم وفاتحا بینہم، فجعلنی اللّہ
آدمَ وأعطانی کل ما أعطی لأبی البشر، وجعلنی
بُروزًا لخاتم النبیین وسید المرسلین. والسرّ
فیہ أن اللّہ کان قضی من الأزل أن یخلُق
آدم الذی ہو خاتم الخلفاء فی آخر الزمان کما
خلق آدمَ الذی ہو خلیفتہ الأول فی شرخ
ہر چہ تمام تر حاصل آمد بایکدیگر پرخاش وپیکار آغاز نہادند۔وہیچ آدم نبود کہ زمام اختیار آنہا
را در دست آورد و برآنہا حَکم گردد و راہ فیصلہ در نزاع آنہا بکشاید۔ لاجرم خدا مرا
آدم گردانید و مراہمہ آں چیز بخشید کہ بآدم بخشیدہ بود و مرا
بروز خاتم النّبیین و سید المرسلین بگردانید و کشف ایں
حقیقت چنان است کہ خدا از ازل ارادہ فرمودہ بود کہ آں آدم را خواہد آفرید
کہ در آخر زمان خاتم خلفاء خواہد بود چنانکہ
درآغاز زمان آں آدم را بیافرید کہ خلیفۂ اول او بود
ہوسکا ایک دوسرے کے ساتھ لڑائی جھگڑے کی بنیاد ڈالی۔ اور کوئی آدم نہ تھا کہ اُن کے اختیار کی
باگ کو ہاتھ میں لائے اور ان پر حَکم بنے اور اُن کی نزاعوں میں فیصلہ کی راہ نکالے۔ لاجرم خدانے
مجھ کو آدم بنایا اور مجھ کو وہ سب چیزیں بخشیں اور مجھ کو
خاتم النبیین اور سید المرسلین کا بروز بنایا اور بھید اس میں
یہ ہے کہ خدا نے ابتدا سے ارادہ فرمایا تھا کہ اس آدم کو پیدا کرے گا
کہ آخری زمانہ میں خاتم خلفاء ہوگا جیسا کہ
زمانہ کے شروع میں اس آدم کو پیدا کیا جو اس کا پہلا خلیفہ تھا