واللئام وصَولِ المخالفین بالأقلام والمکذّبین. وکاد أن لا یبقٰی أثر منہ لو لم یتدارکہ فضلُ اللّٰہ الکریم المُعین۔ فاقتضتْ غیرۃُ اللّٰہ أن یبعث فیہ مجدِّدًا یشابہ آدمَ، فخلَقنی فی ہٰذا الیوم فی وقت العصر أعنی ساعۃ العسر وعلّمنی من لدنہ وأکرمَ، وأدخلَنی فی عبادہ المکرمین، وجعلنی حَکَمًا للأقوام حملۂ دشمنان با خامہ ہا و تکذیب کنندگان بکمی آمدہ و خیل نزدیک بود کہ اثرے از وے نماندے اگر فضلِ خدائے کریم اورا باز نہ جستے چنانچہ از ہمیں سبب است کہ غیرت خدا خواست کہ در وے مجددے را مبعوث فرماید کہ با آدم مشابہ باشد۔پس در ایں یوم در وقت عصر اعنی در ساعت عُسر مرا بیافرید و مرا از پیش خود بیاموخت و بنواخت و در سلک بندگان بزرگ خود مرا در آورد۔ و مرا حَکَم ساخت برائے آناں کہ لئیموں کی زیادتی اور دشمنوں کے حملوں سے جو قلم کے ساتھ ہیں اور تکذیب کرنے والوں کی وجہ سے کم ہو گیا ہے۔ اور قریب تھا کہ اس کا کچھ نشان بھی باقی نہ رہتا اگر خدائے کریم کا فضل اس کا تدارک نہ کرتا۔ چنانچہ اسی سبب سے خدا کی غیرت نے تقاضاکیا کہ اس میں ایک مجدد کو پیدا کرے جو آدم سے مشابہ ہو۔پس اس دن عصر کے وقت یعنی عُسر کے وقت مجھ کو پیدا کیا اور مجھ کو اپنے پاس سے سکھایا اور عزت دی اور اپنے بزرگ بندوں کے سلسلہ میں مجھ کو داخل کیا۔ اور مجھے ان کے لئے جو اختلاف کرتے ہیں