ساعۃ العَصر والعُسر للإسلام والمسلمین، کما
خُلق آدم صفیُّ اللّہ فی آخر ساعۃ الجمعۃ. وإن
زمانہ کان نموذجا لہذا الحین، وکان وقت
عصرہ ظلاًّ لہذا العصر الذی عُصِرَ الإسلام
فیہ وصُبّتْ مصائب علی دیننا، وکادت أن
تغرب شمس الدین. وترون فی ہذہ الأیام
أن نور الإسلام قد عُصر من کثرۃ الظلام
در ساعت عصر و در وقتیکہ اسلام و مسلمانان را عُسر و تنگی فراگرفتہ بود مخلوق شدہ ام
چنانکہ آدم صفی اللہ در ساعت آخری جمعہ آفریدہ شد و
البتہ زمانِ آدم برائے ایں وقت بطور نمونہ بود و
وقت عصر وے بطور ظل برائے ایں عصر بود کہ در وے گلوئے اسلام
فشردہ شدہ و مصیبت ہا بر دین ما فرو ریختہ و نزدیک است کہ
آفتاب دین فرو رود و ظاہر است کہ دریں ایّام
نور اسلام از بسیاری تاریکی و فرومایگان
عصر کے وقت اور ایسے وقت میں جبکہ اسلام اور مسلمانوں کو تنگی اور عسر نے گھیر لیا تھا پیدا کیا گیا ہوں
جیسا کہ آدم صفی اللہ جمعہ کے آخری گھڑی میں پیدا کیا گیا اور
آدم کا زمانہ اس وقت کے لئے بطور نمونہ کے تھا اور
اس کے عصر کا وقت اس عصر کے لئے سایہ کے طور پر تھا کہ اس میں اسلام کا گلا گھونٹا گیا
اور ہمارے دین پر مصیبتیں پڑیں اور قریب ہے کہ
دین کا آفتاب غروب ہو جائے اور ظاہر ہے کہ ان دنوں
اسلام کا نور تاریکی کی کثرت اور