وقد مضٰی آخر الألف السادس، وما بقی وقتُ
نزول المسیح بعدہ، وإن فی ہذا لآیۃ لقوم
یطلبون. وکان ہذا مِن معالم الموعود فی
القرآن ویعلمہا المتدبّرون. وإن الألف
السادس کالیوم السادس الذی خُلق فیہ
آدم، وإنّ یومًا عند ربک کألف
سنۃٍ ممّا تعُدّون.
چنانچہ آخر ہزار ششم بگذشت و بعد ازاں
برائے نزول مسیح ہیچ وقتے و موقعے نماند و البتہ در ایں برائے طالبان نشانے مے باشد
و ایں امر در قرآن از نشانہائے آں موعود بود
وایں را تدبر کنندگاں مے دانند۔ و البتہ ہزار ششم
چوں آں روز ششم است کہ درو آدم پیدا کردہ شدہ بود
چنانکہ خداوند حکیم مے فرماید کہ یک یوم نزد پروردگار تو
چوں ہزار سال است از آنچہ شمار مے کنید۔
تحقیق ہزار ششم کا آخر گزر گیا۔ اور اس کے بعد
مسیح کے نازل ہونے کے لئے کوئی وقت اور موقعہ نہ رہا اور البتہ اس میں طالبوں کے لئے ایک
نشان ہے اور یہ بات قرآن میں اس موعود کی نشانیوں میں سے تھی
اور اس کو تدبر کرنے والے جانتے ہیں اور البتہ چھٹا ہزار
اس چھٹے دن کی طرح ہے جس میں آدم پیدا کیا گیا تھا
جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک دن تیرے پروردگار کے نزدیک
ہزار سال کی طرح ہے تمہارے حساب سے۔