خُلقتُ فی الألف السادس فی آخر أوقاتہ کما خُلق آدم فی الیوم السادس فی آخر ساعاتہ، فلیس لمسیحٍ مِن دونی موضعُ قدم بعد زمانی إن کنتم تفکّرون ولا تظلمون. فأنا صاحب الزمان لا زمان بعدی، فبأی زمان تُنزِلون مسیحکم المفروض أیہا الکاذبون؟ و قد اتّفق علی ہذہ العِدّۃ التوراۃُ والإنجیل والقرآن، فاسألوا أہل الکتاب إن کنتم ترتابون. در آخر اوقات ہزار و ششم آفریدہ شدہ ام چنانکہ آدم در روز ششم در ساعت آخری وے مخلوق شد پس بدون من برائے مسیحے دیگر جائے قدم گذاشتن بعد وقت من نیست اگر فکر بکنید و بیداد اختیار نکنید۔ پس من صاحب زمان منتظر ہستم و بعد از من ہیچ زمانے نیست و آں کدام زمان خواہد بود کہ در وے اے دروغ زنان مسیح فرضی و خیالی خود را فرود خواہید آورد و بر ایں وقت و زمان تورات و انجیل و قرآن ہمہ متفق ہستند اگر شک دارید از اہل کتاب بپرسید۔ چھٹے ہزار کے آخر اوقات میں پیدا کیا گیا ہوں جیسا کہ آدم چھٹے دن میں اس کی آخری ساعت میں پیدا کیا گیا پس میرے سوا دوسرے مسیح کے لئے میرے زمانہ کے بعد قدم رکھنے کی جگہ نہیں اگر فکر کرو اور ظلم اختیار نہ کرو۔ پس میں صاحب زمان موعود ہوں اور میرے بعد کوئی زمانہ نہیں اور اے جھوٹو! وہ کون سا زمانہ ہو گا جس میں تم اپنے فرضی اور خیالی مسیح کو اتارو گے اور اس وقت اور زمانہ پر تورات اور انجیل اور قرآن سب متفق ہیں۔ اگر شک ہے تو اہل کتاب سے پوچھ لو۔