یتصلّفون وبالقرآن لا یؤمنون. وتکذِب
ألسنہم، ولیس فی قلوبہم إلا الدنیا، وإلیہا
یتمایلون. ویرون أن المُلک قد زُلزل و
حلَّ السّامُ وہدَّر الحِمامُ ثم لا یرجعون.
أفلم ینظروا إلی مفاسد الأرض فتکون لہم
قلوب یعقلون بہا، ولکنہم قوم یستکبرون.
أیکفرون بآدم ہذا الزمان وقد خُلق علی
اوشاں لاف بیہودہ مے زنند و با قرآن ایمان ندارند و زبان اوشاں
حرف دروغ مے زند و در دل اوشاں بغیر حبّ دنیا نیست و بالکلیہ بہ دنیا
مائل ہستند۔ و مے بینند کہ ملک در زلزلہ و جنبیدن آمدہ و
مرگ عام نازل شدہ و موت ہمچو کبوتر آواز ہا برداشتہ باز رجوع نمی آرند
کاش نگاہے بر فساد ہائے زمین مے کردندے تا
دل دانا چشم بینا باوشاں دست دادے و لیکن اینہا قومے گردن کش ہستند
آیا انکار آدم ایں زمان مے کنند حالانکہ بر پشت زمین
بیہودہ لاف مارتے ہیں اور قرآن پر ان کا ایمان نہیں اور ان کی زبان
جھوٹ بولتی ہے اور ان کے دل میں دنیا کی محبت کے سوا اور کچھ نہیں اور اس کی
طرف مائل ہیں اور دیکھتے ہیں کہ ملک میں زلزلہ پڑ گیا ہے۔اور
عام موت پڑ رہی ہے اور موت کبوتر کی طرح آوازیں کر رہی ہے پھر رجوع نہیں کرتے
کاش! زمین کے فسادوں کو دیکھتے تب ان کی آنکھیں
کھلتیں اور عقل آتی لیکن یہ ایک متکبر قوم ہے۔
کیا اس زمانہ کے آدم کا کفر کرتے ہیں حالانکہ زمین کی پیٹھ پر