الصریح، ومنعہ من الصعود إلی السماء ، وبشَّر المسلمین بأن خاتم الخلفاء ومسیح ہذہ
الأمّۃ لیس إلّا من الأمّۃ، فأیّ مسیح بعدی
ینتظرون؟وقالوا ما نری ضرورۃ مسیح وکفانا
القرآن، وقد کذّبوا کتاب اللّہ وہم یعلمون.
ولو کانوا یتّبعون القرآن لما کذّبونی، لأن
القرآن یشہد لی ولکنہم کذّبوا، فثبت أنہم
صاف بیان مے فرماید و از صعود بر آسمان او را باز مے دارد و
مسلماناں را مژدہ مے دہد کہ خاتم خلفا و مسیح ایں امت از
ہمیں امت خواہد بود پس بعد ازیں انتظار کدام مسیح
مے کشند و مے گویند ما احتیاج بمسیح نداریم و
قرآن مارا کافی است ازیں گفتگو دانستہ کتاب خدا را تکذیب مے کنند
و اگر اتباع قرآن کردندے تکذیب من نہ نمودندے زیرا کہ
قرآن گواہی من مے دہد لیکن اوشاں تکذیب مے کنند از ایں جا ثابت شد کہ
طور پر بیان فرماتا ہے اور آسمان پر چڑھنے سے اس کو روکتا ہے اور
مسلمانوں کو خوشخبری دیتا ہے کہ خاتم الخلفاء اور اس امت کا مسیح
اسی امت میں سے ہوگا اب اس کے بعد کون سے مسیح کا
انتظار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم کو مسیح کی ضرورت نہیں اور
قرآن ہمارے لئے کافی ہے۔ یہ جان بوجھ کر خدا کی کتاب کی تکذیب کر رہے ہیں۔
اور اگر قرآن کا اتباع کرتے تو میری تکذیب نہ کرتے کیونکہ
قرآن میری گواہی دیتا ہے لیکن وہ جھٹلاتے ہیں یہاں سے ثابت ہوا کہ وہ