خارجًا منہ کما أنتم تعلمون. وہذا منّۃ
من الصدّیق رضی اللّہ عنہ علی رقاب المسلمین
کلہم أنہ أثبتَ بنصّ القرآن موتَ الأنبیاء
کلہم وموتَ عیسٰی، فہل أنتم شاکرون؟ ثم
خلَف مِن بعدہم خلفٌ یترکون القرآن
ویخالفون الرحمٰن وعلی اللّہ یفترون. وقد
علموا أن القرآن تَوفَّی المسیح، وکرّر البیان
ازیں اجماع بیرون نماند۔ و ایں احسان
صدیق است رضی اللّہ عنہ بر گردن ہمہ مسلمانان
کہ موت ہمہ انبیاء و موت عیسیٰ را بنص قرآن
ثابت فرمود آیا شکر مے کنید باز
برجائے ایشاں آں کساں نشستند کہ قرآن را مے گذارند و
خلاف رحمن مے کنند و بر خدا دروغ مے بندند و
خوب مے دانند کہ قرآن مسیح را وفات مے دہد و مکرر ایں معنی را
اس اجماع سے باہر نہ رہا اور یہ حضرت
صدیق رضی اللّہ عنہ کا تمام مسلمانوں کی گردن پر احسان
ہے کہ انہوں نے تمام انبیاء کی موت اور عیسیٰ کی موت کو قرآن سے
ثابت کیا۔ کیا تم مشکور* ہو؟ پھر
ان کی جگہ وہ لوگ بیٹھے جو قرآن کو چھوڑتے ہیں اور
رحمن کے خلاف کرتے ہیں اور خدا پر جھوٹ باندھتے ہیں اور
خوب جانتے ہیں کہ قرآن مسیح کو وفات دیتا ہے اور دوبارہ اس کو صاف