عیسٰی علی السماء حیًّا وقد مضٰی ألفٌ وقریب مِن ثُلُثہ علی موت رسول اللّہ؟ ساء ما تحکمون. أرَضِیتم بأن یکون نبیکم مدفونًا فی التراب فی المدینۃ، وأمّا عیسٰی فہو حیّ إلٰی ہذا الوقت؟ اتقوا اللّہ أیہا المجترء ون. قد کان إجماع الصحابۃ علی موت عیسٰی أوّلَ إجماع انعقد فی الإسلام باتفاق جمیعہم، وما کان فرد بر آسمان زندہ باشد و نبیء ما از مدّت چہاردہ صد شربت ممات چشیدہ است آیا بایں خورسند ہستید کہ نبیء شما در مدینہ زیر زمین مدفون و لیکن عیسیٰ تا ایں زمان زندہ باشد اے دلیران بیباک از خدا بترسید و ایں اجماع اول بود کہ باتفاق جمیع صحابہ در اسلام منعقد گردید و فردے از افراد آسمان پر زندہ ہو اور ہمارے نبی چودہ سو برس سے وفات یافتہ ہوں۔ کیا تم اس بات پر خوش ہو کہ تمہارے نبی مدینہ میں زمین کے نیچے مدفون ہوں لیکن عیسیٰ اس وقت تک زندہ ہو اے بے باکو! خدا سے ڈرو اور یہ پہلا اجماع تھا جو تمام صحابہ کے اتفاق سے اسلام میں منعقد ہوا اور کوئی فرد بھی