وانظروا کیف اقتضتْ غیرتہم أنہم ما رضوا
بحیاۃ نبی بعد موت رسول اللّہ، فہُدُوا إلی
الصراط کما یُہدَی العاشقون. واجتمعت
قلوبہم علی مفہوم آیۃ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِہِ الرُّسُلُ
وآمنوا بہ وکانوا بہ یستبشرون. ثم أتیتم
بعدہم.. ما قدّرتم نبیّکم حقّ قدرہ وتقولون
ما تقولون. أتأمرکم محبّتکم بنبیّکم أن یّبقٰی
و نیز نگاہے بکنید کہ غیرت ایشاں ہرگز روا نداشت کہ بعد موت رسول اللّہ
صلی اللّہ علیہ و سلم بر حیات ہیچ کدام نبی راضی بشوند پس خدا او شاں را
ہماں طور راہ حق بنمود کہ عاشقان را مے نماید و
دل ہائے ایشاں بر مفہوم آیت قد خلت من قبلہ الرسل اتفاق کردند
و بہ آں ایمان آوردند و شادمانی ہا کردند پس
بعد از اصحاب نوبت بشما رسید۔ شما رعایت حق و قدر نبی ہیچ بجا نیا وردید۔ وے گوئید
آنچہ مے گوئید آیا محبت شما روا دارد کہ عیسیٰ
اور یہ بھی غور کرو کہ ان کی غیرت نے ہرگز نہ چاہا کہ رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ و سلم
کی موت کے بعد کسی نبی کی حیات پر راضی ہو جائیں پس خدا نے ان کو
اس طرح سے حق کی راہ دکھلائی جس طرح عاشقوں کو دکھلاتا ہے۔ اور
ان کے دلوں نے قد خلت من قبلہ الرسل کی آیت کے مفہوم پر اتفاق کر لیا۔
اور اس پر ایمان لائے اور اس پر خوش ہوئے۔ پھر صحابہ کے بعد
تمہاری باری آئی تم نے اپنے نبی کی وہ قدر نہیں کی جو قدر کرنے کا حق تھا۔ اور کہتے ہو
جو کچھ کہتے ہو۔ کیا تمہاری محبت روا رکھتی ہے کہ عیسیٰ