لرسول اللّہ صلی اللہ علیہ وسلم بعد خطبۃ أبی بکر کُنْتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِی فَعَمی عَلَیْکَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَکَ فَلْیَمُتْ فَعَلَیْکَ کُنْتُ أُحَاذِرُ یرید أن خوفی کلہ کان علیک، فإذا متَّ فلا أبالی أن یموت موسٰی أو عیسٰی فانظروا إلیہم کیف أحبّوا نبیّہم وکیف کان تصدر منہم آداب المحبّۃ وآثارہا أیہا المجادلون. در مرثیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گفت۔ تو مردمک چشم من بودی اکنوں از فقدان تو چشم من نابینا شد بعد از مردنت ہر کہ خواہد بمیرد من بر جان تو مے لرزیدم یعنی ہمہ خوف من از بابت جان تو بود چوں تو مردی اکنوں من ہیچ باک ندارم کہ موسیٰ بمیرد یا عیسیٰ بمیرد۔ پس نگاہے بفرمائید کہ اوشاں نبی ء خود را چہ قدر دوست مے داشتند و چہ طور آداب محبت و نشان آں ازوشاں آشکار مے شدند رسول اللہ صلی اللّہ علیہ وسلم کے مرثیہ میں کہا تو میری آنکھ کو پتلی تھی اب تیرے جاتے رہنے سے میں اندھا ہو گیا تیرے مرنے کے بعد جو چاہے مرے مجھے تو تیرے ہی مرنے کا ڈر تھا یعنی مجھے تو سارا یہی ڈر تھا کہ کہیں تو نہ مر جائے لیکن اب جبکہ تو ہی مر گیا تو اب مجھے کچھ پروا نہیں کہ موسیٰ مرے یا عیسیٰ مرے۔ اب غور کرو کہ وہ اپنے نبی کو کس قدر دوست رکھتے تھے اور کس طرح محبت کے آداب اور نشان اُن سے ظاہر ہوتے تھے۔