بصمیم القلب أن الأنبیاء کلہم قد ماتوا وقد أدرکہم المنون. فما بقی لہم أسف علٰی موت رسولہم ولا محلّ غبطۃ لحبیبہم، وتنبّہوا علی موتہ، وفاضت عیونہم وقالوا إنا للّہ وإنا إلیہ راجعون. وکانوا یتلون ہذہ الآیۃ فی السکک والأسواق والبیوت ویبکون. وقال حسّان بن ثابت وہو یرثی ہمہ انبیا ازیں عالم رخت بر بستہ اند اکنوں اوشاں را بر موت رسول خویش رنجے و غمے برائے محبوب خویش محل تحسّر و افسوس نماند و بر موت وے خبردار و آگاہ شدند و جوئے اشک از چشم رواں ساختند انا للہ گفتند و ایں آیت را در کوچہ و بازار و خانہ مے خواندند و مے گریستند چنانچہ حسان بن ثابت بعد از خطبہ ابوبکر سارے نبی فوت ہو چکے ہیں اب ان کو اپنے رسول کی موت پر کوئی رنج اور غم اور اپنے پیارے کے لئے کوئی حسرت اور افسوس کی جگہ نہ رہی اور اس کی موت پر خبردار اور آگاہ ہو گئے اور آنسوؤں کے دریا آنکھوں سے بہائے اور انا للہ کہا اور اس آیت کو گلی کوچوں میں اور گھروں میں پڑھتے تھے اور روتے تھے چنانچہ حسان بن ثابت نے حضرت ابوبکر کے خطبہ کے بعد