أبو بکر کلامہم وما کانوا یزعمون، فقام علی المنبر واجتمع الصحابۃ حولہ وتلا الآیۃ المذکورۃ وقال اسمعونِ. وکانوا مجتمعین کلہم لموت رسول اللّہ صلی اللّہ علیہ و سلم فسمعوا وتأثّروا بأثر عجیب کأن الآیۃ نزلت فی ذالک الیوم وکانوا یبکون ویصدّقون. وما بقی أحد منہم فی ذالک الیوم إلا أنہ آمن حضرت ابو بکر کلام ایشاں شنید و بر پندار ایشاں آگاہ شد پس بر منبر بالا برآمد و اصحاب بر گرد وے گرد آمدند و ایں آیت مذکورہ را برخواند و فرمود از من بشنوید و ہمگناں بر موت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمع آمدہ بودند چوں ایں آیت را شنیدند تاثیر شگرف در دل یافتند وپنداشتند کہ گوئی ایں آیت ہمدراں روز نازل شد و بر شنیدنش گریہ آغاز کردند و تصدیق فرمودند و دراں روز شخصے نماند کہ از تہ دل بایں ایمان نیاورد کہ حضرت ابو بکر نے ان کا کلام سنا اور ان کے گمان پر آگاہ ہوئے تب منبر پر کھڑے ہوئے اور صحابہ ان کے گرد جمع ہوئے پھر آیت مذکورہ پڑھی اور فرمایا سنو! اور سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت پر جمع تھے۔ جب یہ آیت سنی تو عجیب تاثیر اپنے دلوں میں پائی اور سمجھے کہ گویا یہ آیت آج ہی اتری ہے اس کو سن کر انہوں نے رونا شروع کیا اور تصدیق کی اس دن ایسا کوئی شخص نہ رہا جو اس پر ایمان نہ لایا ہو کہ