مَن صُلب فہو ملعون. ألَعَنَ عبدًا ویعلم
أنہ مؤمن، سبحانہ وتعالٰی عمّا
یصفون! و قد لعن اللّہ فی التوراۃ
کلَّ مَن صُلب فاسأل أہل التوراۃ إن کنت
من الذین لا یعلمون۔ وإن کان المصلوب
من أعداء عیسٰی ومن الکفار فکیف سکت
المصلوب عند صلبہ وما برّأ نفسہ، وکیف بقی أمرہ
ہر کہ مصلوب شود ملعون است۔ آیا خدا بندہ را ملعون کرد و
میدانست کہ او مومن است پاک است ذات او ازیں چیز ہا کہ باوے نسبت مے کنند
و خدا در تورات ہر مصلوب را ملعون قرار مے دہد
اگر نمے دانید از اہل تورات بپرسید
و اگر شخص مصلوب از دشمنان عیسیٰ
و از کفار بود وقت صلیب چرا خاموش
ماند و چرا خود را بری ثابت نہ کرد و چرا امر او
جو سولی دے کر مار دیا جائے وہ ملعون ہے۔ کیا خدا نے ایک ایسے بندہ کو ملعون کیا
جس کی نسبت جانتا تھا کہ وہ مومن ہے اس کی ذات ان باتوں سے پاک ہے جو وہ اس سے منسوب
کرتے ہیں۔ اور خدا تورات میں ہر ایک مصلوب کو معلون قرار دیتا ہے۔
اگر ہم نہیں جانتے تو تورات والوں سے پوچھو۔
اور اگر وہ مصلوب شخص عیسیٰ کے دشمنوں میں سے
تھا اور کافر تھا تو صلیب کے وقت کیوں چپ رہا
اور اپنے آپ کو کیوں بری نہ ثابت کیا اور اس کی بات کیوں