أو وجدوہا فی الکتاب والسنّۃ، فلیُخرجوہا لنا إن کانوا یصدُقون. کلّا.. بل إنہم یفترون علی اللّہ ورسولہ ولا یتّقون. ولا یفکّرون فی أنفسہم أن العقل یخالف ہذہ القصّۃ ولا یصدّقہا المتفرّسون. فإنّ الذی صُلب فی مصلب عیسٰی إنْ کان من المؤمنین فکیف صلَبہ اللّہ و قد قال فی التوراۃ إنہ یا آں را در کتاب و سنت دیدہ اند۔ باید کہ آں مقام مارا ہم بنمایند اگر راست مے گویند۔ ہرگز چناں نیست بلکہ بر خدا و رسول وے افتراء مے کنند و خوف ندارند و در دل خود فکر نمے کنند۔ عقل دست رد بر سینہ ایں قصہ مے زند و دانشمنداں زنہار دنبال تصدیق ایں نروند۔ چہ کہ آں شخص مصلوب کہ در جائے عیسیٰ بکشتن درآمد اگر مومن بود چگونہ خدا بگذاشت کہ او را بر دار بکشند حالانکہ در تورات فرمودہ کہ یا اس کو قرآن اور حدیث میں دیکھا ہے چاہیے کہ وہ مقام ہم کو بھی دکھلائیں اگر سچ کہتے ہیں۔ ہرگز ایسا نہیں بلکہ خدا اور اس کے رسول پر افتراء کرتے ہیں اور نہیں ڈرتے اور اپنے دل میں نہیں سوچتے۔ عقل اس قصہ کے مخالف ہے اور عقل مند ہرگز اس کی تصدیق نہیں کرتے کیونکہ وہ مصلوب شخص جو عیسیٰ کی بجائے سولی دیا گیا اگر وہ مومن تھا تو خدا نے کس طرح اسے چھوڑ دیا کہ وہ سولی دیا جائے حالانکہ تورات میں خدا نے فرمایا ہے کہ