کالمکنون؟ وکان المصلوبون لا یموتون إلا إلٰی ثلا۔ثۃ أیام أو یزیدون. فکانت المہلۃ کافیۃ، فاسأل الذین یصلبون عدوًّا من أعداء عیسٰی کیف سکت المصلوب إلٰی ہذا الأمد.. أیقبلہ العاقلون؟ ألم یبق لہ شہداء مِن أُمّہ وزوجہ وإخوانہ وجیرانہ وأحبابہ وأصحابہ ومن الذین کان أودعَہم أسرارَہ پوشیدہ بماند و چنیں بود کہ مصلوب بر صلیب تا سہ۳ روز بلکہ زیادہ ازاں میماند و نمے مرد پس ایں قدر مہلت برائے ایں تحقیق کافی بود۔ اکنوں ازاں کساں کہ دشمنے را از دشمنانِ عیسیٰ صلیب مے دہند بپرسید کہ آں مصلوب تا اینقدر مدت چگونہ خاموش ماند آیا ایں را عاقلاں مے پذیرند۔ آیا برائے او گواہاں از مادر و زن و برادراں و ہمسائیگان و دوستان و یاران وے نماندند و نیز آں کساں ہم نماندند کہ راز دار پوشیدہ رہی مصلوب صلیب پر تین دن تک بلکہ تین دن سے زیادہ تک زندہ رہ سکتا تھا۔ پس اس قدر مہلت اس تحقیق کے لئے کافی تھی۔ اب ان لوگوں سے جنہوں نے عیسیٰ کے ایک دشمن کو سولی دیا پوچھو کہ وہ مصلوب اتنے دنوں کیونکر چپ رہا۔ کیا عقلمند اسے قبول کرتے ہیں۔ کیا اس کے لئے اس کی ماں اور بیوی اور بھائی اور ہمسائے اور دوست گواہ نہ بنے۔ اور کیا انہوں نے بھی گواہی نہ دی جو اس کے راز دار