أکتَبہ اللّہ فی القرآن فیتّبعونہ، أو قالہ الرسول فیقولونہ کلّا بل ہم یفتَرون. ولن تجد آیۃ فی ہذا الباب، ولا حدیثا من نبیّنا المستطاب، ولا یقبَلہ العقل السلیم أیہا العاقلون. وقالوا إن المسیح رُفع إلی السماء الثانیۃ وصُلب مقامَہ رجل آخر، فانظر إلی کذبٍ ینحِتون۔أکانوا حاضرین عند ہذہ الواقعۃ آیا ایں سخن را خدا در قرآن نوشتہ است کہ پیروی آں مے کنند یا موافق گفتہ رسول مے گویند ہرگز چناں نیست بلکہ از پیش خود مے تراشند درایں باب آیتے و حدیثے یافتہ نمے شود و نہ ایں امر را عقل سلیم قبول مے کند۔ و گویند کہ مسیح بر آسمان دوم مرفوع شد و در جائے او شخص دیگر را بر دار کشیدند۔ ایں دروغ را بہ بیں کہ تراشیدہ اند۔ آیا در وقت وقوع ایں واقعہ حاضر بودند؟ کیا یہ بات خدا نے قرآن میں لکھ دی ہے اس لئے اس کی پیروی کرتے ہیں یا یہ بات رسول نے کہی ہے۔ پس وہ بھی کہتے ہیں۔ ہرگز ایسا نہیں ۔ بلکہ وہ خود یہ بات تراشتے ہیں۔ اس بارہ میں کوئی آیت اور حدیث پائی نہیں جاتی اور نہ اس بات کو عقل سلیم قبول کرتی ہے۔ اور کہتے ہیں کہ مسیح دوسرے آسمان پر اٹھا لیا گیا اور اس کی جگہ ایک دوسرا شخص سولی دیا گیا۔ اس جھوٹ کو دیکھو جو انہوں نے تراشا ہے۔ کیا وہ اس واقعہ کے وقوع کے وقت حاضر تھے؟