إلّا وتغضبون علی أنفسکم وتتندّمون. وترونہا عذابا شدیدا فی کل حین تقرء ون. فحینئذ تحترق قلوبکم بلظَی الحسرۃ و ربما تودّون لو کنتم تترکون. اَلْبَابُ الرَّابِعُ إن الذین یزعمون أن عیسی صعد إلی السماء لیس عندہم سلطان وإنْ ہم إلّا یکذبون۔ مگر آنکہ بر جان ہائے خود خشمناک خواہید شد و پشیمان خواہید شد و ہر وقتے کہ تلاوت آں خواہید کرد جان شما ازاں عذاب شدید محسوس خواہد کرد و دراں وقت دلہائے شما از آتش حسرت کباب گردد و بسا اوقات آرزو خواہید کرد کہ کاش کسے از ما سورۂ فاتحہ را نخواندے۔ آناں کہ پندارند کہ عیسیٰ علیہ السلام بر آسمان رفت در دستِ شاں دلیلے نیست بلکہ ایشاں دروغ مے زنند تو تم کو اپنے اوپر سخت غصہ آئے گا اور پچھتاؤ گے اور جس وقت اسے پڑھو گے تمہاری جان اس سے سخت عذاب محسوس کرے گی۔ اس وقت تمہارے دل حسرت کی آگ سے کباب ہوں گے اور اکثر چاہو گے کہ کاش کہ ہم سورۃ فاتحہ کا پڑھنا چھوڑ دیتے۔ جن کا یہ گمان ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر گئے ان کے ہاتھ میں کوئی دلیل نہیں بلکہ وہ جھوٹ بولتے ہیں۔