وإنّ قدر اللّہ لا یبدَّل أیہا الجاہلون. ألا تقرء ون الفاتحۃ وقد کنتم تصرّون علیہا أیہا المحدِّثون؟ الیوم عاداکم الفاتحۃ وأنتم عادیتموہا وصار التزامہا عذاب أنفسکم کأنہا جرعۃٌ غیر سائغ تبلَعونہا ولا تستطیعون. ولا تتلون بعد ذالک ہذہ السورۃ إلا وأنتم تتألّمون. ولا تتلون:غَیْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَیْہِمْ و اے جاہلان تقدیر خداوندی ہرگز تبدیل نمی شود اے پیروان حدیث! آیا اکنوں فاتحہ را نمے خوانید و شما براں بسیار اصرار مے کردید۔ امروز فاتحہ با شما عداوت مے کند و شما باوے میکنید و التزام آں بر جان شما عذاب شدید گردیدہ گوئی آں یک جرعہ ناگوار است کہ آں را از کام فرو بر دن مے خواہید و نمی توانید و امید است کہ بعد ازیں بغیر ایں کہ دل را صد مہ رسد ایں سورۃ را نخواہید خواند و غیر المغضوب علیہم را نخواہید خواند اور خدا کی تقدیر کبھی نہیں بدلتی۔ اے حدیث کی پیروی کرنے والو! کیا اب فاتحہ کو نہیں پڑھتے اور تم تو اس پر بہت اصرار کیا کرتے تھے۔ آج فاتحہ تم سے دشمنی کرتی ہے اور تم اس سے کرتے ہو اور اس کا التزام تمہاری جان پر سخت عذاب ہو گیا ہے گویا کہ وہ ایک ناگوار گھونٹ ہے جسے نگلنا چاہتے ہو لیکن نگل نہیں سکتے اور امید ہے کہ اب اس کے بعد تم اس سورۃ کو بغیر درد و الم کے نہ پڑھو گے اور جب غیر المغضوب علیہم کا لفظ پڑھو گے