کما أنتم تزعمون. وقد لعنتم مسیحًا جاء کم منکم، وأتممتم علیہ ما کُتِبَ فی کتاب اللّہ، فہو المسیح الموعود إن کنتم تتفکّرون. سیقولون إنا لا نحضُرہ إلّا تذلّلا وطاعۃً فکیف نکفّرہ ونؤذیہ وإنّا بہ مؤمنون۔ قُلْ ہذا قدرٌ من اللّہ کُتِبَ علی حزبٍ منکم فی الفاتحۃ، ہمچناں کہ گمان مے کنید وشما براں مسیح *** کردہ اید کہ از شما نزد شما آمد و پیشگوئی قرآن را برو باتمام رسانیدہ اید پس ہماں مسیح موعود است اگر فکر کنید ایشاں خواہند گفت کہ ما بکمال فروتنی و فرمان پذیری پیش اوحاضر شویم پس چگونہ ممکن است کہ او را کافر گوئیم و آزارش بدہیم در حالیکہ ما با اوایمان بیاوریم۔ بگو ایں تقدیر خداوندی است کہ در حق گروہے از شما در سورۃ فاتحہ نوشتہ شدہ جیسا کہ تم گمان کرتے ہو اور ایک مسیح تو تمہیں میں سے تمہارے پاس آچکا اور تم نے اس پر وہ پیشگوئی پوری کر دی جو سورۃ فاتحہ میں تھی پس وہی مسیح موعود ہے جس پر وہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔ کہیں گے کہ ہم پوری خاکساری اور عاجزی سے اس کے پاس حاضر ہوں گے پھر کیونکر ہو سکتا ہے کہ ہم اسے کافر کہیں اور ستائیں حالانکہ ہم اس پر ایمان لائیں۔ کہہ دے کہ یہ خدا کی تقدیر ہے جو تمہارے میں سے ایک گروہ کی نسبت سورۃ فاتحہ میں لکھی گئی ہے۔ النصاریٰ و لعنۃ من المسلمین الذین یکفرونہ عند نزولہ و یُکذّبون۔ فکانّ السرّ از طرف نصارٰی ولعنتے از طرف آں مسلماناں کہ تکذیب و تکفیر او خواہند کرد۔ پس گویا در نازل کردن عیسیٰ علیہ ا لسلام فی انزال عیسٰی ھو تکمیل امر اللعن وادخال المسلمین فی الذین یلعنون۔ منہ ہمیں رازے است کہ تا امر *** را مکمل کردہ شود و مسلمانان نیز دراں گروہ داخل شوند کہ برولعنت مے فرستند۔منہ